افغان طالبان کے لیے انتخابات اصل امتحان

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر طالبان عوام میں مقبول ہیں تو انہیں اعتماد کا ووٹ مل جانا چاہیے۔

افغانستان میں اقتدار پر قبضے کے بعد طالبان رہنما اپنے ملک میں اصلاحات لانے اور خواتین کو مختلف اداروں میں بھرپور مواقعے فراہم کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ طالبان نے دونوں  مرتبہ اقتدار پر قبضہ کیا، ان کا اصل امتحان  تو انتخابات ہوں  گے جب عوام  ووٹ  کے ذریعے اپنا حق  رائے دہی  استعمال  کریں  گے۔

افغانستان سے امریکا سمیت دیگر غیر ملکی افواج کا انخلا آخری مرحلے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی دوحہ سے طالبان کی سیاسی قیادت کابل پہنچ گئی ہے۔ پہلے کی نسبت اب طالبان رہنما اپنے بیانیے میں لچک دکھاتے ہوئے اصلاحات لانے کی باتیں کررہے ہیں۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ وہ اپنے ملک میں خواتین کو شریعت کے مطابق کام کرنے کی اجازت دیں گے، بچیوں کی تعلیم اور میڈیا کی آزادی ان کی حکومت کا ایک اہم فیصلہ ہوگا۔

طالبان ترجمان کی پریس کانفرنس پر سیاسی تجزیہ نگاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں کے بعد طالبان اپنے نظریات میں تبدیلی لائے ہیں تو انہیں ملک میں انتخابات کی طرف بھی جانا چاہیے۔ دیکھا جائے تو طالبان کا اصل امتحان انتخابات ہی ہوں گے جب عوام  ووٹ  کے ذریعے اپنا حق رائے دہی  استعمال  کریں گے۔ اس  وقت  واضح ہوجائے  گا  کہ  لوگ  انہیں  بطور  حکمران تسلیم  کرتے  ہیں  یا  نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

یقین دہانی کے باوجود مغربی ممالک کا طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار

افغان طالبان 1996 میں طاقت کے زور پر اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔ ان کا 5 سالہ دور حکومت سخت روایات پر مبنی تھا۔ تجزیہ نگاروں  کے  مطابق اگر آج طالبان عوامی حمایت حاصل کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں تو انہیں اپنے ملک میں آزاد انتخابات کے ذریعے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلینا چاہیے۔

اس وقت طالبان کو سفارتی چیلنجز درپیش ہیں۔ امریکا سمیت یورپی ممالک ان کی حکومت تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ایسے میں اگر وہ عوامی حمایت حاصل کرلیتے ہیں تو عالمی برادری بھی انہیں تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔

متعلقہ تحاریر