بھارتی وزیراعظم عوام کو گمراہ کرنے کیلئے ٹیکنالوجی کا استعمال کررہے ہیں، رپورٹ

یہ ٹیکنالوجی ان افراد کے خلاف استعمال ہوگی جو مودی حکومت اور ان کی انتہا پسند  کیلئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں

معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کیلئے کام کرنے والی بھارتی صحافی رانا ایوب نے بھارتی انتہا پسند وزیراعظم نریند مودی اور ان کی جماعت بی جے پی  کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی معروف نیوز ویب سائٹ ’’ دی وائر‘‘ کی جانب سے 6 جنوری سے تحقیقاتی صحافت  پر مبنی ایک سلسلہ شروع کیا گیا جس میں  وزیراعظم نریند مودی  اور ان کی انتہا پسند جماعت بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ رائے عامہ  میں ہیرا پھیری اور عوام کو گمراہ کرنے کیلئے سوشل میڈیا کو ہائی جیک کرنے کے لئے ایک جدید ترین موبائل ایپ کے ساتھ ساتھ  انکرپٹڈ میسجنگ پلیٹ فارمز  کی تیاری کررہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انکرپٹڈ میسجنگ پلیٹ فارمز اور جدید ترین ایپ کی تیاری کا بنیادی مقصد خواتین صحافیوں سمیت ایسے افراد کی جانب سے خبروں اور تجزیوں کو روکنا ہے جو مودی  حکومت اور ان کی انتہا پسند  کیلئے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

رانا ایوب نے لکھا کہ  بی جےپی کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سیل کا ایک سابق  کے حوالےسےبھی بات کی گئی ہے جو  ملک میں بدنیتی سے جعلی اور گمراہ کن خبریں پھیلانے کیلئے مشہورہیں ۔ 2014  میں  جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو مجھ سمیت انسانی حقوق کے کارکنان،صحافیوں اور سیاستدانوں کی جانب سے  ان کے خلاف  نفرت انگیز بے بنیادخبروں کے پھیلاؤ  کی جانب نشاندہی کی گئی تاہم اس پر حکومتی سطح پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ماسوائے یہ کہ ان کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیل سے  الگ کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل بپن راوت کی حادثاتی موت کے بعد مودی نے بکتربند مرسیڈیز لے لی

کشمیر میں انسانی حقوق کیلیے سرگرم خرم پرویز تاحال زیرحراست

رانا ایوب لکھتی ہیں کہ بھارتی سیات میں سوشل میڈیا اور میڈیا کے کردار کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ بھارتی انتہاپسند جماعت بی جے پی کو بہت پہلے ہی ہوگیا تھا،  اس کے لئے  مودی  حکومت نے ایک پوری ٹیم تیار کی تھی جس میں سیاسی کارکن ہی نہیں بلکہ میڈیا مینیجر ، پبلک رلیشن اسٹریٹجیز ، لابنگ فرمز سمید مختلف آئی ٹی فرمز کے سربراہان شامل تھے  جس کا کام سیاسی انتقام کے ساتھ ساتھ  انتہا پسند وزیراعظم مودی کی ناقص  کارکردگی  کو کارآمد دکھانے کے ساتھ ساتھ   ان کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا تھا ۔

اس حوالے سے   2013 میں، میری ایک تفصیلی اسٹوری شائع کی گئی جس میں  ، میں نے منظم انداز میں ان تمام خبروں کے تراشوں اور سوشل میڈیا پر چلنے والی  بے بنیاد خبروں کی فیکٹریوں کو بے نقاب کیا تھا ۔

انھوں نے لکھا کہ انتہاپسند مودی کس طرح بھارتی معیشت اور بھارتی سلامتی کیلئے ایک خطرہ ہے  ہم میں سے بہت سے لوگ برسوں سے یہ سب جانتے ہیں اور اس کا تجربہ بھی کرچکے ہیں ،’’ دی وائر‘‘ کی   تحقیقات میں اس بات کی تصدیق اور توثیق کی جاچکی ہے ۔

متعلقہ تحاریر