بھارت میں کرونا سے 5.2 لاکھ کے بجائے 40لاکھ اموات کا انکشاف
عالمی ادارہ صحت کی نئی تحقیق میں دنیا بھر میں کرونا کی 90 لاکھ اضافی اموات سامنے آگئیں،ایک تہائی کا تعلق بھارت سے نکلا، مودی سرکار کا رپورٹ کی اشاعت رکوانے کیلیے دباؤ

بھارت میں کرونا وبا سے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ 40 لاکھ اموات ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔صرف 5 لاکھ 20 ہزار اموات کی دعویدار مودی حکومت عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کی اشاعت میں رکاوٹ بن گئی۔
عالمی ادارہ صحت کی کورونا وائرس سے ہونے والی عالمی اموات کی تعداد کا کھوج لگانے کیلیے کی گئی نئی تحقیق کے نتیجے میں انکشاف ہوا ہے کہ پچھلے اندازوں کے مقابلے میں کرونا سے کہیں زیادہ اموات ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
انسداد کرونا ویکسی نیشن مہم میں ایک اور سنگ میل عبور
نیوزی لینڈ کا 2 سال بعد کرونا لاک ڈاؤن اٹھانے کا فیصلہ
نیویارک ٹائمز کے مطابق دنیا بھر کے ماہرین کی ایک سال سے زائد تحقیق اور تجزیے سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق 2021 کے اختتام تک دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ انسان کرونا وبا کے باعث لقمہ اجل بن چکے تھے جبکہ حکومتوں کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یہ تعداد صرف 60 لاکھ تھی۔
ایک اندازے کے مطابق عالمی سطح پر سامنے آنے والی 90 لاکھ اضافی اموات میں سے ایک تہائی سے زیادہ بھارت میں ہوئی ہیں،تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت اس دعوے پر مُصر ہے کہ بھارت میں کرونا سے صرف 5 لاکھ 20 ہزار اموات ہوئی ہیں ۔سرکاری اعداد وشمار کی بنیاد پر بھارت امریکا اور برازیل کے بعد دنیا میں کرونا اموات کے حساب سے تیسرے نمبر پر ہے۔
تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق بھارت میں کرونا سے ہونے والی اموات کے درست اعداد و شمار سے آگاہی رکھنے والے افراد(جوکہ ان اعداد وشمار کو ظاہر کرنے کے مجاز نہیں) کے مطابق بھارت میں ہونے والی اموات کی تعداد کم از کم 40 لاکھ ہے۔اس تعداد کے حساب سے بھارت کرونا اموات کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر ہے۔
بھارت کے اعتراضات کی وجہ سے اس رپورٹ کا اجرا کئی ماہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ مودی حکومت کو رپورٹ میں کرونا سے بھارت میں ہونے والی اموات کی تعداد پراعتراض ہے جو اسے عام کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہیں۔
بھارت نے اس رپورٹ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی طرف سے وبائی مرض کی ریاضیاتی ماڈلنگ”قابل اعتراض‘‘ اور اعداد و شمار کے لحاظ سے”غیر ثابت شدہ‘‘ ہے۔
بھارتی وزارت صحت نے جسمانی درجہ حرارت اور ماہانہ اموات کے درمیان تعلق کے مفروضے کو بھی”عجیب‘‘ قرار دیا ہے۔ بھارتی حکومت ڈبلیو ایچ او کے ساتھ متعدد ملاقاتوں میں اس حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر چکی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق ابھی تک ڈبلیو ایچ او نے ہمیں کوئی ایسا جواب نہیں دیا، جو ہمیں مطمئن کر سکے.
قبل ازیں بھارتی حکومت نے طبی جریدے لینسیٹ اور جرنل سائنس کے بھی اس طریقہء کار پر سوالیہ نشان اٹھایا تھا جس کے تحت اموات کی تعداد کا تعین کیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت کے ناقدین کے مطابق نئی دہلی حکومت نے کووڈ اموات کو چھپانے کی کوشش کی تھی تاکہ نریندر مودی کی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپا سکے۔ ناقدین کے مطابق بھارت نہیں چاہتا کہ اس کے ناقص ہیلتھ سسٹم پر سوالات اٹھائے جائیں اور دنیا میں خود کو سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے والے اس ملک کی بدنامی ہو۔









