روس کا افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ

روس طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے پر امریکا اور دیگر ممالک کی پیروی نہیں کرے گا

روس نے افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ۔  افغانستان کے لیے روس کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ ماسکو طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے۔

افغانستان کے لیے روس کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ ماسکو طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کر سکتا ہے اور اس نے جنوبی ایشیائی ملک کے لیے اناج محفوظ کر رکھا ہے تاکہ وہاں ممکنہ خوراک کے بحران کو روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

روس  نے یوکرین جنگ کے 100 دن میں تیل کی بر آمدات سے 98 بلین ڈالر کمالیے

افغانستان کے لیے روس کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف نے سرکاری ٹی وی چینل” ون رشیا ” پر ایک انٹرویو میں کہا کہ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے امکانات موجود ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ  طالبان روس کے ساتھ تعاون کرنے اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 کابلوف نے کہا کہ روس طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے پر امریکا اور دیگر ممالک کی پیروی نہیں کرے گا۔

ضمیر کابلوف کا کہنا تھاکہ روسی صدر نے افغانستان کیلئے اناج مختص کرنے کی اجازت دی ہے۔طالبان کے نائب وزیر تجارت ماسکو کا دورہ کریں گے اور افغانستان نے کچھ مصنوعات کی خریداری کیلئے روس کو درخواست دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا روس سے یومیہ  8 لاکھ بیرل تیل خریدنے لگا

واضح رہے کہ  پاکستان سمیت کسی  بھی ملک نے افغانستان میں طالبان حکومت کو اب تک باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے جبکہ  اس حوالے طالبان نے اسلامی ممالک سے حکومت تسلیم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

متعلقہ تحاریر