کیا اٹلی میں جارجیا میلونی کی شکل میں فاشزم آرہا ہے؟
کارنیجی یورپ تھنک ٹینک کی ڈائریکٹر روزا بالفور نے کہا کہ "انتہائی قدامت پسند اقدار، امیگریشن مخالف اور قوم پرستی - یہ تین کلیدی الفاظ ہیں جو اس بات کی بہترین وضاحت کرتے ہیں کہ وہ کس کے لیے ہے۔"
اپنے سیاسی حریفوں کو نیچا دکھانے ، سفید فام بالادستی اور قوم پرست نظریات کی مالک جارجیا میلونی ممکنہ طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد اٹلی کی پہلی انتہائی دائیں بازو کی وزیراعظم ہوسکتی ہیں۔
اتوار کے روز ہونے والے انتخابات کے نتائج سے قریب قریب ظاہر ہوگیا ہے کہ برادرز آف اٹلی پارٹی اس مرتبہ میدان مارلے گی ، انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کے اتحادیوں میں سابق وزیر اعظم سلویو برلسکونی کی سینٹرل رائٹ فورزا اٹالیا پارٹی اور دائیں بازو کے فائربرانڈ میٹیو سلوینی لیگ شامل ہیں۔
ابتدائی نتائج کی پیش گوئی کے مطاق 45 سالہ قوم پرست جارجیا میلونی اٹلی کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کانگریس اور گاندھی لازم و ملزوم نہ رہے، پارٹی صدارت خاندان سے باہر ہوگئی
امریکا میں56 سالہ خاتون نینسی اپنے بیٹے جیف کے پانچویں بچے کی ماں بن گئیں
اب تک کے نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر جارجیا میلونی کی پارٹی برسراقتدار آجاتی ہے تو اطالوی سیاست کا رخ سفید فام بالادستی اور فاشزم کی جانب مڑ جائے گا۔
اتوار کے روز ہونے والے انتخابات کے اب تک کے نتائج کے مطابق برادرز آف اٹلی پارٹی نے ووٹوں کا 26 فیصد حاصل کرلیا ہے ، جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں مذکورہ پارٹی کو 4 فیصد ووٹ ملے تھے۔
جارجیا میلونی پہلی خاتون سیاست دان ہیں جنہوں نے افریقہ سے ہجرت کرکے ان کے ملک میں داخل ہونے والوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور بحری ناکہ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
ملک میں شرح پیدائش میں کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے اس سب کا ذمہ دار ملک میں قائم ہونے والی بائیں بازو کی جماعتوں کو قرار دیا تھا۔
جارجیا میلونی نے الزام لگایا کہ یہ سابقہ حکومتوں کی سازش تھی کہ اٹلی کی آبادی کو کم رکھا جائے اور باہر سے لوگوں کو یہاں بسایا جائے۔ مگر اب ہم ایک عظیم تبدیلی کی بنیاد رکھیں گے۔ ہم سفید فام لوگوں کو اپنے ملک میں جگہ دیں گے ، اور بین الاقوامی سازش کو ناکام بنائیں گے۔
ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو پارٹی کی سربراہ کا کہنا تھا "ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اختتامی مقام پر نہیں ہیں، بلکہ ہم نقطہ آغاز پر ہیں۔ اور کل سے ہمیں اپنی قابلیت کو ثابت کرنا ہوگا۔”
خیال کیا جارہا ہے کہ اٹلی کی دوسری فاشسٹ جماعت جس کے سربراہ بینیٹو مسولینی اور حامی جارجیا میلونی کے ساتھ اتحاد بنا سکتے ہیں ، تاہم میلونی نے ایسی تمام تجاویز کو مسترد کردیا ہے۔
خیال کیا جارہا تھا کہ موجودہ انتخابات کے نتائج کے بعد سلوینی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی مگر نتائج نے گذشتہ رات کو ان کے برا خواب بنا دیا۔ 2018 میں 17 فیصد ووٹ لینے والی پارٹی صرف 9 فیصد ووٹ حاصل کرپائی ہے۔
سینٹر لیفٹ ڈیموکریٹک پارٹی نے 19% ووٹ حاصل کیے اور شکست تسلیم کر لی ہے۔
یورپ میں دیگر انتہائی دائیں بازو کی شخصیات نے جارجیا میلونی کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے سب سے پہلے مبارکباد دینے والوں میں فرانس کی میرین لی پین بھی شامل ہیں ، جنہوں نے اپریل کے صدارتی انتخابات میں ایک مضبوط حریف کے طور پر اپنے آپ کو منوایا تھا۔
میرین لی پین نے کہا ہے کہ "اطالوی عوام نے ایک محب وطن اور خودمختار حکومت کو منتخب کر کے اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔”
ہنگری کے آمرانہ سوچ کے حامل وزیر اعظم وکٹر اوربان کے پولیٹیکل ڈائریکٹر بالز اوربن نے اپنی مبارکباد ٹویٹ کی اور میلونی، سالوینی اور برلسکونی کی تصاویر شامل کیں جو وکٹر اوربن کے ساتھ مصافحہ کر رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں نے جارجیا میلونی کی سیاست کا موازنہ ہنگری کے رہنما سے کیا گیا ہے، جس نے سیاسی مخالفین اور یورپی یونین کے رہنماؤں کے مطابق اپنے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو ایک منظم طریقے سے ختم کردیا تھا۔
اٹلی کے نئے انتخابات کے نتائج نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ روس کے حملے کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کی حمایت کرنے والے مغربی اتحاد کے استحکام کے لیے آگے کیا ہوگا؟۔









