امریکا نے پاکستان کو ایف 16 کے پرزوں کی فراہمی پر بھارتی اعتراض مسترد کردیا

امریکا کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے پرزوں کی فراہمی پر بھارتی اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کو جھاڑ پلادی۔
بھارتی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ پاکستان کو دیا جانے والا ایف 16 طیاروں کا پروگرام نیا نہیں بلکہ ایک عرصے سے جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی خفیہ ایجنسی کے راز افشا کرنے والے ایڈورڈ اسنوڈن کو روسی شہریت مل گئی
کیا اٹلی میں جارجیا میلونی کی شکل میں فاشزم آرہا ہے؟
امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کو نئے طیاروں، نئے سسٹمز یا نئے ہتھیاروں کی فراہمی نہیں کی جا رہی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے منظور کردہ 450 ملین ڈالر کی ڈیل پہلے سے فراہم کیے گئے ایف 16 طیاروں کی مینٹیننس کے لیے ہے تاکہ جو طیارے پاکستان کے پاس ہیں، انہیں برقرار رکھا جاسکے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے اور ہم پابند ہیں کہ ہماری طرف سے فراہم کردہ فوجی ساز و سامان قابل استعمال رہے۔انٹونی بلنکن نے بھارتی ہم منصب کو کہا کہ پاکستان کا دفاعی پروگرام دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بناتا ہے، یہ کسی کے بھی مفاد میں نہیں کہ ان خطرات کو بڑھنے دیا جائے۔
امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ نہ صرف دہشتگردی کے واضح خطرات خود پاکستان بلکہ اس کے پڑوسی ممالک سے بھی اٹھ رہے ہیں۔ یہ پاکستان کو نشانہ بنانے والی ٹی ٹی پی ہو ، داعش خراسان ہو یا القاعدہ ہو یہ خطرات واضح اور سب کے علم میں ہیں اوریہ سب کے مفاد میں ہے کہ ان سےنمٹنے کے لیے ہمارے پاس ذرائع ہوں، یہ پروگرام اسی مقصد کے لیے ہے۔
پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی کوششوں سے متعلق سوال پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنے دوستوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ اختلافات کو سفارتکاری اور بات چیت سے حل کریں، یہ مناسب نہیں ہوگا کہ وہ اس معاملے پر پاکستان یا بھارت کے ردعمل کا اظہار کریں۔
بھارتی وزیر خارجہ نے انڈین امریکن کمیونٹی سے خطاب میں امریکا کی جانب سے پاکستان کو ایف سولہ طیاروں کی فراہمی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے امریکی موقف پر تنقید کی تھی۔جے شنکر کا کہنا تھا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے ایف 16 طیارے دینے کی بات کرکے آپ کسی کو بے وقوف نہیں بناسکتے۔انہوں نے پاک امریکا تعلقات پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان تعلقات سے پاکستان اور امریکا کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی محکمہ خا رجہ نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی مرمت کیلئے سامان اورآلات فروخت کرنےکی منظوری دی تھی۔بعد ازاں بھارت نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے پرزے فروخت کرنے پر امریکا سے احتجاج کیا تھا۔









