خامنہ ای کی بھانجی ایرانی عوام کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار
فریدہ مرادخانی کا تعلق خاندان کے اس حصے سے ہے جو ایرانی علما کی قیادت کی مخالفت کی تاریخ رکھتا ہے اور وہ پہلے بھی جیل کاٹ چکی ہیں۔

ایرانی حکام نے عوام کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی بھانجی کو گرفتار کر لیا ہے ۔
فریدہ مراد خانی نےایک وڈیو بیان میں اپنے ماموں کی قیادت میں ایرانی حکام کو’قاتل اور بچوں کو مارنے والی حکومت‘ قرار دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ایرانی مظاہرین نے امام خمینی کی جائے ولادت کو نذرآتش کردیا
ایران میں 15 ہزار مظاہرین کو پھانسی دینے کی منظوری
فریدہ مرادخانی کا تعلق خاندان کے اس حصے سے ہے جو ایرانی علما کی قیادت کی مخالفت کی تاریخ رکھتا ہے اور وہ پہلے بھی جیل کاٹ چکی ہیں۔ ان کے بھائی محمود مرادخانی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ انہیں سمن کے بعد پراسیکیوٹر کے دفتر جانے کے بعد بدھ کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ہفتے کو فریدہ کے بھائی نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس کا لنک ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔ گرفتار خاتون نے وڈیو میں ایرانیوں پر”صاف اور واضح جبر“کی مذمت کی اور عالمی برادری کی بے عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ”آزاد لوگو، ہمارے ساتھ رہو! اپنی حکومتوں سے کہو کہ وہ اس قاتل اور بچوں کو مارنے والی حکومت کی حمایت کرنا چھوڑ دیں۔ یہ حکومت اپنے کسی مذہبی اصول کی وفادار نہیں ہے اور طاقت کے علاوہ کسی بھی قانون یا قاعدے کو نہیں جانتی اور کسی بھی طرح سے اپنی طاقت کو برقرار رکھتی ہے“۔ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ویڈیو کب ریکارڈ کی گئی تھی۔
انہوں نےشکوہ کیاکہ حکومتی پابندیاں مضحکہ خیز ہیں اور ایرانیوں کو آزادی کی لڑائی میں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔مرادخانی خامنہ ای کی بہن بدری کی بیٹی ہیں جو 1980 کی دہائی میں ایران ، عراق جنگ کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ عراق فرار ہو گئی تھیں۔









