بہادر اور دیانتدار اعلیٰ پولیس افسر بھی کرپشن کی گنگا میں مزے لوٹتے رہے
اپنی بہادری و یانتداری کے حوالے سے مشہور انڈین پولیس سروس کے اعلیٰ آفیسر امیت لودھا اپنی ہی کہانی پربننے والی ویب سیریز کی ریلیز کے بعد کرپٹ ثابت ہوگئے، بطور ڈی آئی جی بہار امیت نے اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کیا اور غیر قانونی طور پر رقم کمائی جبکہ قانون کے خلاف ویب سیریز کیلئے قلم کاری بھی کی جوکہ آئی پی ایس قوانین کے تحت ممنوع ہے

انڈین پولیس سروس کے اعلیٰ آفیسر امیت لودھا کے خلاف بدعنوانی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ بھارتی ریاست بہار میں اعلیٰ پولیس عہدے پر تعینات امیت لودھا پر اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
بھارتی ریاست بہار میں اعلیٰ عہدے پر تعینات انڈین پولیس سروس امیت لودھا کی کارگردگی پر نیٹ فلیکس نے "خاکی” نام سے ایک سیریز بنائی جس پر امیت لودھا کی ملک بھر میں تعریفیں کی جانے لگیں تاہم جلد ہی ان پر کرپشن کے الزاعات لگ گئے ۔
یہ بھی پڑھیے
عام آدمی پارٹی نے میونسپل الیکشن میں بی جے پی کو شکست دیکر اکثریت حاصل کرلی
نیٹ فلیکس کی سیریز "خاکی” امیت لودھا کی کتاب "بہار سیریز، دی ٹرو اسٹویری آف ہاؤ بہارز موسٹ پر مبنی ہے۔ سیریز "خاکی” دی بہار چیپٹر،کی کہانی اس بات کا احاطہ کرتی ہے کہ کس طرح پولیس نے انتہائی بدنام و مطلوب ملزم کو گرفتار کیا ۔
انڈین پولیس سروس کے آفیسر امیت لودھا کی کتاب نے نیٹ فلیکس کو ویب سیریز بنانے پر مجبور کیا کہ کیسے انہوں نے ایک انتہائی مطلوب و بدنام زمانہ جرائم پیشہ شخص جس نے پوری ریاست میں دہشت کا راج قائم کر رکھا تھا ۔
نیٹ فلیکس کی سیریز ‘خاکی: دی بہارچیپٹر’ کے ریلیز ہونے کے بعد انڈین پولیس سروس کے آفیسرامیت لودھا کی ملک بھر میں تعریفوں کے پل باندھے گئے۔ بھارتی عوام ان کی مداح ہوگئیں اور وہ ایک ہیرو کی طرح مشہور ہوگئے۔

سیریز کی مقبولیت کے ساتھ ہی امیت لودھا کےغیرقانونی معاملات بھی سامنے آئے جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیاہے۔ بدعنوانی کے مقدمے میں کہا گیا ہےکہ انہوں نے غیر قانونی طور پر مالی فائدے اٹھائے ۔
بہار پولیس کے اقتصادی جرائم ونگ کی طرف سے درج کی گئی شکایت کے مطابق، لودھا نے پروڈکشن ہاؤس فرائیڈے اسٹوری ٹیلر کے ساتھ اس وقت معاہدہ کیا جب وہ آئی پی ایس افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
امیت کے خلاف شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ ایک روپے میں معاہدہ طے کیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے 49 لاکھ انڈین روپے میں معاہدہ کیا اور رقم ان کی اہلیہ نے وصو ل کی ہے ۔
پولیس حکام کے مطابق ویب سیریز بنانے والے پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ ڈیل طے ہونے سے پہلے ہی بیوی کے اکاؤنٹ میں کچھ رقم جمع کروائی گئی تھی۔مقدمہ میں کہا گیا ہےکہ انہوں نے غیر قانونی طریقے سے پیسا کمایا ۔
امیت لودھا کے خلاف درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ آئی پی ایس آفیسر جب انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی ) بہار کے عہدے پر تعینات تھے تب سے کرپشن میں ملوث رہے اور عہدے کا غلط استعمال بھی کیا ۔
مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ انڈین پولیس سروس کے قوانین کے تحت پولیس آفیسر زکو کہانی لکھ کر تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی جبکہ امیت لودھا کوئی قلم کار نہیں بلکہ ایک پولیس آفیسر ہیں ۔









