فواد چوہدری کے ساتھ اب قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا، عابد شیر علی
معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے فواد چوہدری صاحب نے ریاستوں اداروں کے خلاف ذلت آمیز گفتگو کی ہے ، جس بنا پر اسلام آباد پولیس نے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی درخواست ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عابد شیر علی نے کہا ہے کہ اپنی سیاسی انا کے لیے ملک کو بھینٹ چڑھانے والے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی اب جیلوں میں جانے کی باری ہے ، قانون سختی سے عملدرآمد کرے گا ، فواد چوہدری اور ان جیسے لوگوں کی جگہ جیل ہو گی جو ملک کے خلاف حملے آور ہوں گے۔ کسی کو گالی دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ان کی مرضی کا کمیشن میں بندہ لگا دیں تو ٹھیک ہے ، آپ نے اپنی مرضی کا چیف منسٹر لگوایا تھا ، جس کو آپ ڈاکو کہتے تھے ، پنجاب میں پرویز الہیٰ کو ذبح کیا آپ (عمران خان) نے۔ آپ نے اپنی حکومت خود چھوڑی ہم نے آپ سے حکومت نہیں چھڑوائی۔ فواد چوہدری کو بالکل قانون کے مطابق گرفتار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
تین لوگوں نے مذہب کے نام پر مجھے سلمان تاثیر کی طرح قتل کرانے کی سازش کی، عمران خان
ن لیگ میں مفتاح اسماعیل اور شاہد خاقان عباسی کی شکل میں بغاوت سر اٹھارہی ہے؟
عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ کوئی سیاسی کیس نہیں ہے۔ انہوں نے ریاست پاکستان کو چیلنج کیا ، کہا گیا کہ ان کے بچوں کے بچوں کو بھی اٹھائیں گے۔ آپ کی ماضی کا فیصلہ آئے تو ٹھیک ہے نہیں تو عدالتوں کو بھی گالیاں دی جاتی ہیں۔ نواز شریف کے ساتھ بھی ظلم و زیادتی ہوئی تھی۔ پی ٹی آئی نے پاکستان کا کیا حال کردیا ہے۔ فواد چوہدری تمہاری اب قسمت میں ذلالت ہے ، تم سے اب قانون کے مطابق ڈیل کیا جائے گا۔ یہ کوئی سیاسی یا ذاتی رنجش نہیں ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ کل رات اسلام آباد پولیس کی جانب سے سیکریٹری الیکشن کمیشن کی جانب سے درخواست دی گئی کہ فواد چوہدری صاحب نے ریاستوں اداروں کے خلاف ذلت آمیز گفتگو کی ہے۔ فواد چوہدری صاحب نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے جو سربراہ ہیں جو افسران ہیں ان کے خاندانوں سے حساب لیں گے۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ اتنا سنگین جرم ہے کہ پاکستان پینل کورڈ کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آپ ایک آئینی ادارے کے آئینی سربراہ کو دھمکی دے رہے ہیں، اور اس سربراہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں جو آپ کی مشاورت سے لگایا گیا تھا ، اور فواد چوہدری صاحب اس کمیٹی میں شامل تھے جنہوں نے الیکشن کمشنر کو تعینات کیا تھا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی عادتیں بگڑی ہوئی ہیں ، یہ اپنے دور میں بےگناہ لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیتے تھے۔ میں لاہور ہائی کورٹ کے جج صاحب سے بھی درخواست کروں کہ نہال ہاشمی نے بھی اسی طرح کی بات کی تھی جس طرح کی بات فواد چوہدری نے کی ہے ، نہال ہاشمی نے کہا تھا ہم ان کے خاندانوں پر زمین تنگ کردیں گے جس کی سزا انہوں نے چھ ماہ قید بھگتی تھی۔ اپنی سینیٹ کی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ اس لیے انصاف کا معیار دھرا نہیں ہوسکتا۔ ابھی فواد چوہدری کے خلاف پرچہ درج ہوا ہے مگر ٹی وی لگائیں تو لگتا ہے کہ پاکستان میں قیامت آگئی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا جو بات فواد چوہدری کی ہے اگر یہ بات کسی عام آدمی نے کی ہوتی تو سات روزہ جسمانی کی استدعا منظور ہوچکی ہوتی۔









