سینکڑوں لوگوں کو مفت کھانا کھلانے والا محنت کش فیض اللہ خدمتگزاری کی اعلیٰ مثال
روز سینکڑوں لوگوں کو مفت کھانا کھلانے والا محنت کش، جس کے ساتھی سوئیپر اور سیکورٹی گارڈ ہیں۔
خدا کے عاشق تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے
میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی بالمقابل سبزہ زار پر ہر روز دوپہر کے اوقات میں لوگوں کا رش دیکھا جا سکتا ہے جہاں کچھ محنت کش افراد رضا الہیٰ کے لئے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کو مفت کھانا کھلاتے ہیں۔
فیض اللہ خان کا وفاقی دارالحکومت کے اسپتال کے باہر مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے ضروری اشیاء کا اسٹال ہے، کبھی وہ منڈی میں سبزیوں کی خرید و فروخت بھی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
لاہور کا ٹیلنٹ، گاڑیاں صاف کرنے والا محمد علی ، نصرت فتح علی خان کا نعم البدل
پشاور میں عراقی شہری نے عربوں کی مشہور خوراک ‘فلافل’ متعارف کروا دی
فیض اللہ خان گزشتہ آٹھ برسوں سے "پمز اسپتال” کے اندر اور اب اسپتال کے بالمقابل سبزہ زار پر روز سینکڑوں افراد کو مفت کھانا کھلاتے ہیں۔ مستحق افراد میں کھانا تقسیم کرنے اور پلیٹیں سمیٹنے والے ان کے ساتھی بھی گارڈ اور سوئیپر کی معمولی ملازمتیں کرتے ہیں۔ وہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ،کیونکہ انہیں اس کام سے سکون اور دلی خوشی ملتی ہے۔
نیوز 360 کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فیض اللہ خان نے بتایا کہ وہ ایک بار اس کی تیمارداری کیلئے آئے اور اسپتال میں کھانا کھایا تو کھانے کے بل نے انہیں سوچنے پر مجبور کردیا کہ مختلف علاقوں سے آنے والے غریب افراد جو دواؤں اور علاج کے اخراجات سے پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں انہیں مفت کھانا کھلانا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ ناشتہ بھی دیتے تھے، مگر وسائل کی قلت اور مہنگائی ان کے لئے مشکلات لے کر آئی ہے، دوپہر کے کھانے پر روز ہزاروں روپے خرچ ہوتے ہیں جس کا انتظام وہ محنت مزدوری اور لوگوں کے عطیات سے کرتے ہیں۔









