90 روز میں انتخابات: شاہد خاقان عباسی ، اعظم نذیر تارڑ اور ملک احمد خان آمنے سامنے
سابق وزیراعظم عباسی کا کہنا ہے کہ آئین 90 روز میں انتخابات کرانے کا پابند ہے ، جبکہ وزیر قانون تارڑ اور معاون خصوصی خان کا کہنا ہے 90 روز میں انتخابات نہیں ہوتے تو آرٹیکل 6 نہیں لگے گا۔
سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جو نشست یا اسمبلی فارغ ہوتی ہے تو آئین کے مطابق 90 روز میں وہاں انتخابات کرانا ضروری ہیں ، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ آئین میں نگراں حکومت کی مدت میں توسیع کی گنجائش موجود ہے ، دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ 90 روز میں انتخابات نہیں ہوتے تو آرٹیکل 6 نہیں لگتا ہے۔
گذشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاسی اکابرین کو اپنے ناک سے آگے دیکھنا ہوگا ، اگر کوئی سیاسی جماعت نظام کی ناکامی کا ذکر کرنے پر نکالنا چاہتی ہے تو پھر وہ سیاسی جماعت نہیں ہے۔ ملک اس وقت بے پناہ چیلنجز میں گھرا ہوا ہے ، سیاسی جماعتوں کا یہی کام ہے کہ مسائل کا حل نکالیں۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز کی لاہور آمد: ریلی کی بدانتظامی پر رہنما ن لیگ عظمیٰ بخاری سخت برہم
شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا اگر کوئی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو آئین کے مطابق وہاں 90 روز میں انتخابات کرانا لازم ہیں۔ آج ایوان مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے جہاں عوام کے مسائل حل ہونے تھے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگراں حکومت کی مدت میں توسیع کا انحصار حالات پر منحصر ہوتا ہے، تاہم نگراں حکومت کی مدت میں توسیع کی گنجائش آئین میں موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا ابھی نئی مردم شماری کا اعلان ہوا ہے ، مردم شماری ختم ہو گی اس کے بعد حلقہ بندیاں ہو گی ، انتخابات کن حلقہ بندیوں پر ہوتے ہیں کہنا قبل از وقت ہوگا۔
ایک سوال کے جواب میں وزیرقانون نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کے لئے آئینی وقت 90 روز ہے تاہم ماضی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی تاریخ میں تبدیلی کی مثالیں موجود ہیں۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے اگر 90 روز میں انتخابات نہیں ہوتے تو آرٹیکل 6 نہیں لگے گا۔ بے نظیر کے شہادت کے وقت ایک حلقے کے انتخابات ملتوی ہونے چاہیے تھے مگر پورے ملک کے انتخابات 35 روز کے لیے ملتوی کردیئے گئے تھے۔
نجی وی ٹی چینل کے اینکر پرسن کے سوال کے جواب میں ملک احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر 90 میں انتخابات نہیں ہوتے تو کیا ہوگا اس حوالے سے آئین خاموش ہے۔









