جمائما گولڈ اسمتھ آج تک اپنی شناخت نہ بنا پانے کی خلش میں مبتلا

میں ہمیشہ سے’کی بیٹی‘،’کی بہن‘،’کی بیوی‘،’کی سابقہ ​​بیوی‘رہی ہوں، اور یہ پریشان کن ہو سکتا ہے، برطانوی فلمساز کا ڈیلی میل کو تفصیلی انٹرویو

عالمی شہرت یافتہ برطانوی مصنفہ اور فلمساز جمائما گولڈ اسمتھ  کو اپنی شناخت نہ بناپانے  کی خلش  ہے اور وہ آج بھی اپنی ذات کو رشتوں کے ذریعے شناخت کیے جانے پرپریشانی میں مبتلا ہیں۔

فلمساز نے برطانوی اخبار ڈیلی میل کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں اپنے بچپن سے جوانی ، سابق وزیراعظم عمران خان سے  شادی ، طلاق اور طلاق کے بعد کے معا شقوں سمیت اب تک کی زندگی پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بیٹے میری فلم دیکھ کر رودیے، بولے ماں ہمیں آپ پر فخر ہے، جمائما گولڈ اسمتھ

جمائما گولڈ اسمتھ نے اپنی فلم کو پاکستان میں گزرے وقت کی جھلک قرار دے دیا

 جمائما نے انٹرویو کے دوران شکوہ کیا کہ” میں ہمیشہ سے’کی بیٹی‘،’کی بہن‘،’کی بیوی‘،’کی سابقہ ​​بیوی‘رہی ہوں، اور یہ پریشان کن ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کے خیالات ان مشہور مردوں سے مختلف ہوں جن سے آپ کو وابستہ کیا جاتا ہے ‘‘ ۔

انہوں نے کہاکہ ایک کالم نگار  انہیں شرمندہ کرنے کیلیے سنگل ہونے کے باوجود ان کا نام بوائے فرینڈز کے ساتھ جوڑدیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ آج بھی سنگل ہیں اور انہیں اب شادی کی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن وہ شادی کیخلاف نہیں ہیں۔

جمائما گولڈ اسمتھ نے انٹرویو میں شادی کے بعد پاکستان میں پیش آئے ناخوشگوار واقعات کا بھی تذکرہ کیا۔ جب ان کی پاکستان میں موجودگی کے دوران لاہور میں عمران خان کے شوکت خانم اسپتال پر خودکش حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے اور انہوں نے عمران خان کے ساتھ جاکر اس واقعے کے شہدا کی سوختہ لاشیں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔

جمائما نےاپنی زندگی کے مضحکہ خیز واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سن 2000  میں وہ برطانوی ایئرلائن کے اس جہاز میں موجود تھیں مخبوط الحواس شخص نے سوڈان کے صحرا میں لے جاکر کریش کرنے کیلیے اغوا کیا تھا۔

جمائما نے انٹرویو میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ترجمان کی جانب سے خود کو ملنے والی قتل کی دھمکی  کا بھی تذکرہ کیا ہے۔جمائما نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں قیام کے دوران سن  2000انہیں امریکی سفارتخانے سے غلط اطلاع دی گئی کہ عمران خان کو قتل کردیا گیا ہے جبکہ 2004میں ان کے بیٹوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا گیا۔مخالفین نے انہیں نوادرات کی اسمگلنگ کے الزامات میں  جیل میں بھجوانے کی کوشش بھی کی۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ سیاسی طورپر اکسایا گیا ہجوم آج بھی ان کی 88سالہ والدہ کے لندن میں واقع گھر کے باہرپلے کارڈز اٹھا کراحتجاج کرتا ہے اور انہیں اردو میں عصمت دری کی دھمکیاں دیتا ہے ۔

متعلقہ تحاریر