اسٹیٹ بینک کی قبل ازوقت مانیٹری پالیسی ، شرح سود تاریخ کی بلند ترین سطح پر جانے کا امکان
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے لیے حکومت پاکستان کو مانیٹری پالیسی کو مزید سخت بنانا ہے۔
آئی ایم ایف کا دباؤ ، اسٹیٹ بینک قبل ازوقت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس بلانے پر مجبور، کیا بنیادی شرح سود میں تاریخی اضافہ ہوگا؟
حکومت پاکستان آئی ایم ایف کو منانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنے لگی ہے کیونکہ پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ تاخیر کا شکار ہے اور 9 فروری کو ہونے والا اسٹاف معاہدہ اب 3 مارچ کو متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نیپرا کا اہلیان کراچی کو بجلی کا جھٹکا، فی یونٹ قیمت میں 1 روپیہ 71 پیسے اضافہ
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے بار بار خوشخبریوں کے دعوے، آئی ایم ایف تاحال خاموش
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کے لیے حکومت پاکستان کو مانیٹری پالیسی کو مزید سخت بنانا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اسٹیٹ بینک بنیادی شرح سود میں 200 سے 300 بیسز پوائنٹ یعنی 2 سے 3 فیصد تک اضافے کرسکتا ہے۔
قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عمل درآمد کرتے ہوئے حکومت نے پہلے ہی بجلی مہنگی ، گیس مہنگی اور 170 ارب روپے کے ٹیکسز عائد کردیئے ہیں۔
شرح سود کا جائزہ لینے کے لیے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا قبل ازوقت اجلاس ہوگا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 16 مارچ کی بجائے 2 مارچ کو منعقد کیا جائے گا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے فیصلے سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا اور اس کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ 2 سے 3 مارچ تک کیے جانے کا امکان ہے۔









