آئی ایم ایف نے اسحاق ڈار کی وزارت خزانہ کے ایک اور جھوٹ کا پول کھول دیا
صوبائی اور عام انتخابات کی آئینی حیثیت اور وقت سے متعلق فیصلوں کا اختیار صرف پاکستان کے اداروں کا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی آئینی سرگرمیوں میں مداخلت کی ضرورت نہیں، ترجمان ایسٹر پیریز
عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے اسحاق ڈارکی وزارت خزانہ کے ایک اور جھوٹ کا پول کھول دیا۔
عالمی مالیاتی فنڈ کا کہنا ہے کہ صوبائی اور عام انتخابات کی آئینی حیثیت اور وقت سے متعلق فیصلوں کا اختیار صرف پاکستان کے اداروں کا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عالمی مالیاتی فنذ کے اعتراض کے باوجود حکومت پیٹرول پر سبسڈی دینے پر بضد
آئعالمی مالیاتی فنڈ کے دباؤ کے پیش نظر شرح سود مزید 2 فیصد بڑھنے کا خدشہ
آئی ایم ایف کی ترجمان ایسٹر پیریز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صوبائی اور عام انتخابات کی آئینی حیثیت،فزیبلٹی او روقت سے متعلق فیصلوں کا اختیار صرف پاکستان کے اداروں کا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ایسی ضرورت نہیں جو پاکستان کی آئینی سر گرمیوں میں مداخلت کر سکے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری پروگراموں کے تحت اہداف حکومتی سطح پر مقرر کیے گئے ہیں، اخراجات کو مختص کرنے یا دوبارہ ترجیح دینے یا اضافی محصولات بڑھانے کیلئے مالی گنجائش ہے۔ایسٹر پیریز نے مزید کہا کہ مالی گنجائش کا مقصد یقینی بنانا ہے کہ آئینی سرگرمیاں ضرورت کے مطابق ہوسکیں۔
واضح رہے کہ وزارت خزانہ نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات ملتوی کرنے حوالے سے جاری کردہ ااعلامیے میں موقف اپنایا تھا کہ وزارت خزانہ کے مطابق ملک میں مالی معاشی بحران ہے،آئی ایم ایف کی شرائط ہیں، حکومت کے لیے کے پی، پنجاب اسمبلی انتخابات کے لیے فنڈ جاری کرنا مشکل ہوگا، حکومت کے لیے قومی اسمبلی، سندھ، بلوچستان کے انتخابات کیلئے فنڈ جاری کرنا مشکل ہوگا، خراب معاشی صورت حال کے باعث فنڈ فراہمی مشکل ہوگی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب میں آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے میں تاخیرکو پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کے دباؤ کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جسے آفنڈز نے وضاحت جاری کرکے ناکام بنایادیاتھا۔









