خیبر پختونخوا انتخابات: تحریک انصاف نئی درخواست کے ساتھ سپریم کورٹ میں

سابق اسپیکر کےپی مشتاق غنی کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے کی روشنی گورنر کےپی صوبے میں انتخابات کرانے کا اعلان کریں۔

پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاریخ نہ دینے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں الیکشن کمیشن اور گورنر کےپی غلام علی خان کو فریق بنایا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کے انتخابات پر سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعرات کے روز خیبر پختونخوا میں انتخابات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔ دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ گورنر حاجی غلام علی کو صوبے میں عام انتخابات کا اعلان کرنے کی ہدایت کرے۔

یہ بھی پڑھیے 

سعودیہ کا پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کا پیکج؛ آئی ایم ایف کی تصدیق

ن لیگ کو اب قاسم سوری کی رولنگ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ برا لگنے گا، نہال ہاشمی پھٹ پڑے

خیبر پختونخوا کے سابق اسپیکر مشتاق غنی کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان نے دائر درخواست میں استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے یکم مارچ کے فیصلے کی روشنی گورنر کےپی صوبے میں انتخابات کرانے کا اعلان کریں۔ جیسا کے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یاد رہے کہ 24 مارچ کو گورنر خیبرپختونخوا نے حاجی غلام علی نے صوبے میں بڑے ہوئے دہشتگردی کے پیش نظر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو زور دیا تھا کہ وہ صوبے میں 8 اکتوبر کو انتخابات کرانے کا اعلان کرے۔

اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے پنجاب میں عام انتخابات 8 اکتوبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوموٹو لیتے ہوئے دو روز قبل فیصلہ دیتے ہوئے ای سی پی کو حکم دیا تھا کہ وہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔

اور اب دو دن بعد پی ٹی آئی نے خیبر پختون خوا میں عام انتخابات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔

آج دائر کی گئی درخواست میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 دنوں کے اندر انتخابات کرانا آئین کی رو سے ضروری ہے جبکہ گورنر اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کیونکہ انہوں نے 28 مئی کو انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔

پٹیشن میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’آئین کے تحت ایسی کوئی شق نہیں ہے جس میں ایک غیر منتخب اور نگران حکومت 90 دن سے زیادہ عرصے تک کام جاری رکھ سکے‘‘، اس پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ آئین کی رو سے نگراں حکومت 90 روز کے لیے مقرر کی جاتی ہے ، 90 روز کے بعد ان کی حکومت غیرقانونی ہو گی۔

متعلقہ تحاریر