پاکستان کے مجرم اور فارن فنڈڈ پارٹی کے لیڈرسےمذاکرات کیوں کریں؟ اسعد محمود
عمران خان کو سیاسی و معاشی استحکام کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعتوں کو سزا دینے کیلیے پاکستان پر مسلط کیا گیا، وفاقی وزیر کی صحافی فہد شہبازسے گفتگو

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پارلیمانی لیڈر اور وفاقی مولانا اسعد محمود نے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے مجر م اور ایک فارن فنڈڈ پارٹی کے لیڈر کے ساتھ مذاکرات کیوں کریں؟
پارلیمنٹ ہاؤس میں دنیا نیوز کے رپورٹر فہد شہباز خان سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا اسعد محمود نے عمران خان کو ملک پر مسلط کرنے کی سازش کیخلاف کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس کو پی ٹی آئی کا کارکن قرار دے دیا
ہم نے نہیں کسی اور نے 90 روز میں انتخابات نہ کرانے کی خلاف ورزی کی، بلاول بھٹو
مولانا اسعد محمود نے کہا کہ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کو فارن فنڈڈ پارٹی قرار دیے جانے، ملک کے معروف جرنیلوں اور سیاسی افراد کی پیشگوئیوں کے تناظر میں کمیشن بننا چاہیے کہ کس طرح عمران خان کو پاکستان پر مسلط کیا گیا، کس طرح پاکستان کی معیشت اور سیاست کو برباد کیا گیا،آج بھی وہ پاکستان کی بنیادیں ہلانا چاہتا ہے،سیاسی مذاکرات سیاسی جماعتوں سے ہوتے ہیں، پلانٹڈ مہروں سے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ میں اس حوالےسے ایک مکمل کمیشن کا مطالبہ کرتا ہوں کہ کیسے عمران خان کی پروجیکشن کی گئی،کس کے ایما پر کی گئی؟ کہاں سے فنڈنگ ہوئی؟کس طرح اس کو سیاسی جماعت بناکر دی گئی؟ کس طرح اس کو حکومت میں لایاگیا؟
انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو گفتگو ہوئی ہم اس میں کھلے عام اور برملا کہتے تھے کہ اس کے پیچھے بین الاقوامی قوتیں ہیں،ہماری اسٹیبلشمنٹ کو دباؤ میں لاکر اس کو پاکستان پر مسلط کیا گیا، کون نہیں جانتا کہ یہ مشرق اور مغرب کی معاشی جنگ اور دونوں طرف سے اپنے مفادات کیلیے کام کیے جارہے ہیں۔
مولانا اسعد محمود نے کہاکہ ہمیں جہاں بھی بلائیں گے ہم ببانگ دہل یہ بات کریں گے،ہم کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں کررہے یہ سیاستدان ہی نہیں ہے اور یہ سیاسی جماعت ہی نہیں ہے،اسے تو ملک کے معاشی و سیاسی استحکام کیلیے جدوجہدکرنے والی جماعتوں کو سزا دینے کیلیے اسے پاکستان پر مسلط کیا گیا۔
ججز کی تعیناتی کے حوالے جنرل باجوہ کے دباؤ کو قبول کرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ اتحادی حکومت کا حصہ ہونے کے ناطے بہت سے معاملات پرمختلف رائے رکھنے کے باوجود ہم حکومتی اتحاد کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ملک میں مارشل لا لگنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ مارشل لا لگانے والے اس کا انجام بھی جانتے ہیں،ہم نے ایو ب خان کے مارشل لا کے مقابلے میں تھے،ہم ضیا کے مارشل لا کے مقابلے میں تھے، ہم نے ہر مارشل لا کا مقابلہ کیا ہے ،اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو ہم کسی بھی مارشل لا کا مقابلہ کریں گے ، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی عمران خان کیلیےکوئی اس نوعیت پر جائے گا کہ ہمیں وہ ہدایت کرے گا کہ ہم اس کے ساتھ مذاکرات کرلیں، ہم پاکستان کے مجر م اور ایک فارن فنڈڈ پارٹی کے لیڈر کے ساتھ مذاکرات کیوں کریں؟وہ پاکستان کا نمائندہ نہیں ہے، اس کو پہلے بھی مسلط کیا گیا اور آزمایا گیا۔









