محمد علی ٹبا ملک میں رائج  نظام  حکومت سے مایوس، ہائبرڈ نظام سے امیدیں لگالیں

معاشی مسائل نے اس محاورے پر یقین دلادیا ہے کہ تاریک سرنگ میں روشنی کا کوئی آثار نہیں، کسی بھی سیاسی جماعت میں قائدانہ خصوصیات نہیں، سیاسی بحران سیاسی نظام سے بھی بڑا ہوچکا ہے اور اس نے عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے، معروف صنعت کار کا تقریب سے خطاب

ملک کے معروف صنعتکار اور یونس برادرز گروپ کے روح رواں محمد علی ٹبا نے  ملک میں رائج نظام حکومت سے مکمل مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے ہائبرڈ نظام سے امیدیں باندھ لیں۔

منگل کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی ایک کانفرنس مسے طویل خطاب میں  اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے  محمد علی تبا نے کہا کہ بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات نے انہیں اس محاورے  پر یقین دلادیا  ہے کہ تاریک سرنگ میں روشنی کے کوئی آثار نہیں ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

صنعتیں تباہی کے دھانے پر، ایک سال میں بڑی صنعتیوں کی پیداوار منفی 9 فیصد

صنعتکاروں کی سیاسی و معاشی بدحالی سے بچنے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے دردمندانہ اپیل

انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان کے زیر اہتمام سی ایف او کانفرنس 2023 سے خطاب کرتے ہوئے  محمد علی ٹبا نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت میں قائدانہ خصوصیات نہیں دیکھتے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوری اور آمرانہ دونوں قسم کی حکومتیں ناکام رہی ہیں، شاید ہائبرڈ قسم کا حل  پاکستان میں کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران  اب سیاسی نظام سے آگے بڑھ چکا ہے اور اس نے عدلیہ کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

محمد علی ٹبا نے کراچی   چیمبر آف کامرس کی جانب سے  حکومت سے سیاسی افراتفری اور عدم استحکام سے پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتحال کو فوری طور پر حل کرنے کے مطالبے کے 2 روز بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے کیونکہ معیشت  مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔

تازہ ترین اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ  بڑی صنعتوں کی پیداوار میں ایک سال پہلے کے مقابلے مارچ میں ایک چوتھائی کمی واقع ہوئی ہے۔ محمد علی تبا  نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں  لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو دہرے ہندسوں میں واپس نہیں جائے گی اوربحالی کا عمل صرف آہستہ آہستہ اور بتدریج دوبارہ  مکمل ہوگا۔

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر سب سے زیادہ اضافہ کرنے والی کمپنیوں کے مالک کاروباری گروپ کے روح روں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنیوں کو علاقائی حریفوں سے برآمدی آرڈر چھیننے کے لیے پیش کی جانے والی رعایت کا حجم ماضی قریب میں دوگنا ہو گیا ہے۔

عام حالات میں انکی برآمدی صنعتیں  علاقائی ہم منصبوں کی طرف سے پیش کردہ نرخوں پر پانچ فیصد رعایت پر آرڈرلیتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستانی کمپنیوں کے لیے برآمدی آرڈر بک کرنے کے لیے رعایت 10 فیصد ہونی چاہیے۔

جہاں بھارت امریکا سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر رہا ہے، وہیں ہائپر مارکیٹ چین والمارٹ پاکستان سے اپنی معمول کی خریداریوں کو بھی کم کر رہا ہے۔ برآمدات میں کمی کو سیاسی افراتفری سے جوڑتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ غیر ملکی خریدار پاکستانی کمپنیوں کی وقت پر آرڈر بھیجنے کی صلاحیت کے بارے میں فکر مند ہیں۔

محمد علی ٹبا نے کسی لگی لپٹی بغیر آمرانہ حکومتوں کی تعریفوں کے گن گائے کیونکہ شہری آزادیوں کے مشکوک ریکارڈ کے باوجود ان ادوار میں  رونما ہوئے ہیں۔انہوں نے دو قطبی عالمی نظام کو دوبارہ بنانے کی کوشش میں سپر پاور کا مقابلہ کرنے پر روسی قیادت کی تعریف کی۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ایران میں رائج قیادت کے ہائبرڈ ماڈل کی تعریف کی، ایک ایسا ملک جو دنیا سے بھیک مانگے بغیر زندہ رہا۔

بدعنوانی کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے جو اوپر سے نیچے تک چل رہا ہے  محمد علی ٹبا  نے کہاکہ  جو بھی اقتدار میں آئے گا اس کے لیے گھمبیرکو حل کرنا ایک  مشکل کام  ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ سرمایہ کاری کرنے سے کتراتے ہیں کیونکہ سرکاری محکمے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنے میں جلدی کرتے ہیں،ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کسی کو یا تو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا پڑتا ہے یا متبادل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔

متعلقہ تحاریر