مراد اکبر بازیابی کیس: اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام چینلز کو ٹکر اور جج کی تصویر چلانے سے روک دیا
عدالت عالیہ نے پیمرا کو پابند کیا ہے کہ وہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنے والے چینل کا لائیسنس معطل کردی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے پیر کے روز شہزاد اکبر کے بھائی کی بازیابی کیس میں تمام چینلز پر عدالتی ریمارکس نشر کرنے پر پابندی لگا دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے مراد اکبر کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیے
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس طلب؛ ترقیاتی پلان اور معاشی اہداف کی منظوری متوقع
نیب نے سابق وزیراعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو القادر ٹرسٹ کیس میں7 جون کو طلب کرلیا
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منصور اقبال دوگل، آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر اور سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا نیا حکم نامہ " جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا ریمارکس نہیں چلیں گے جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی پیمرا کو بھی لکھ رہا ہوں اگر خلاف ورزی ہوئی تو TV لائسنس کینسل ہو گا " جسٹس محسن اختر کیانی کے مراد اکبر بازیابی کیس ریمارکس چلانے پر پابندی عائد
— Saqib Bashir (@saqibbashir156) June 5, 2023
عدالت نے عدالتی ریمارکس ٹیلی ویژن پر نشر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ صرف کیس کا تحریری حکم نامہ چینلز پر نشر کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) نے اس سلسلے میں جج کی تصویر بھر نشر نہ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ پیمرا خط لکھ کر تمام پرائیویٹ چینلز کو اس پابندی کا پابند کرے ، خلاف ورزی کی صورت میں چینل کا لائسنس معطل کرنے کی وارننگ دی جائے۔









