بجٹ 2023-24 میں برآمدات کا ہدف 30 ارب روپے مقرر، 2025 تک 40 ارب روپے تک لے جانے کا منصوبہ

وفاقی حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لیے 18 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔

آئندہ مالی سال 2023-24 کے دوران برآمدات کا ہدف 30 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے اور اسے 2025 تک 40 ارب روپے تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔

مزید برآں برآمدات بڑھانے کے لیے 18 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق برآمدات میں اضافے کے لیے پاکستانی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کو یقینی بنایا جائے گا جب کہ ایکسپورٹ سیکٹر کو تکنیکی بنیادوں پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے 

اپٹما کے سرپرست اعلیٰ نے ٹیکسائل برآمدات میں 5 ارب ڈالر کمی کا امکان ظاہر کردیا

ڈالر کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے نیا فنانس بل لانے کی تیاری مکمل

حکومت تجارت کو فروغ دینے کے لیے سہولیات فراہم کرے گی اور کاروبار کرنے میں آسانی کو یقینی بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں گے۔

علاقائی اور دوطرفہ تجارت میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ بجٹ 2023-24 میں روزگار اور اقتصادی ترقی میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

مزید برآں برآمدات بڑھانے کے لیے 18 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان شعبوں میں انجینئرنگ، چمڑے کی تیاری، خوراک اور مشروبات شامل ہیں۔ پھل، سبزیاں، گوشت، پولٹری، فارماسیوٹیکل سیکٹر کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

ان شعبوں میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ، لاجسٹک ذرائع بھی شامل ہیں جبکہ جواہرات، گھریلو ٹیکسٹائل، چاول اور آلات جراحی کی برآمدات میں اضافہ کو بھی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔

اس فہرست میں کھیلوں کا سامان، جوتے، آٹو پارٹس اور کیمیائی صنعتیں بھی شامل ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق زرعی مصنوعات کے لیے منڈیوں تک رسائی کو آسان بنایا جائے گا، جبکہ ڈیوٹی ڈرا بیک اسکیم پر نظرثانی کی جائے گی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق ایران کے ساتھ مزید سرحدی مارکیٹیں قائم کی جائیں گی۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق کوریا، ویت نام، خلیجی ریاستوں اور افریقی ممالک سمیت متعدد ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کیے جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر