ایم این اے علی وزیر خان کو وزیرستان سے گرفتار کرلیا گیا

ممبر قومی اسمبلی علی وزیر خان کو رواں سال فروری میں رہا کیا گیا تھا۔

جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر خان کو ایک مرتبہ پھر سے گرفتار کرلیا گیا تھا، اس سے قبل دسمبر 2020 میں علی وزیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق گرفتاری پیر کے روز سپلاگ چیک پوسٹ کے قریب سے کی گئی۔ تاہم علی وزیر کے ڈرائیور بادشاہ پشتین کا کہنا تھا کہ گرفتاری دمڈیل پولیس چیک پوسٹ سے کی گئی ہے۔

بادشاہ پشتین نے یہ بھی کہا ہے کہ علی وزیر میران شاہ سے رزمک جا رہے تھے جب گرفتاری عمل میں آئی۔ جس کے بعد انہیں واپس رزمک منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلاول بھٹو زرداری کا میئر کراچی کی طرح پورے ملک سے الیکشن جیتنے کے عزم کا اظہار

پشاور میں داعش کے ہاتھوں مدارس کے 5 طلبہ اور اساتذہ کے قتل کا انکشاف

علی وزیر خان کی گرفتاری کی تصدیق پیر کے روز قومی اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے محسن داوڑ نے بھی کی تھی۔

ایم این اے محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ "ان دنوں میں بھی بات کرتا ہوں ، کسی کی گرفتاری کی بات کرتا ہوں۔”

محسن داوڑ کا مزید کہنا تھا کہ ’آج صبح علی وزیر کو شمالی وزیرستان سے گرفتار کیا گیا ہے، تاہم ابھی تک کوئی وجہ نہیں بتائی گئی‘۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق گرفتاری وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوان کے اجلاس میں رکن اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

محسن داوڑ کا اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کو اس سلسلے میں کچھ کرنا ہوگا ، ورنہ یہ گرفتاری اغواء سمجھا جائے گا۔

یاد رہے کہ علی  وزیر خان کو دسمبر 2020 میں خیبرپختونخوا پولیس نے گرفتار کیا تھا اور سندھ پولیس کے حوالے کیا تھا، کراچی پولیس نے سہراب گوٹھ تھانے میں علی وزیر خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا ، اور کےپی پولیس سے ان کی تحویل مانگی تھی۔

بعدازاں علی وزیر خان کے خلاف تین مختلف مقدمے درج کیے گئے تھے ، اور انہیں کراچی جیل میں رکھا گیا۔ دو سال سے زیادہ جیل میں رہنے کے بعد بالآخر اس سال فروری میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر