سانحہ کارساز، بلاول کو شہدا نہیں "بھونکنے” والا میڈیا یاد رہا
کراچی کے جناح باغ میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے خطاب میں حکومت اور میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔

گزشتہ روز کراچی کے جناح باغ میں سانحہ کارساز کے شہدا کی یاد میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب میں حکومت اور میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میری اس ملک کے عوام سے اپیل ہے کہ آپ اس میڈیا کی کردار کشی پر یقین نہ کریں، آپ پیپلزپارٹی کے خلاف بھونکنے والوں کی باتوں پر نہ چلیں۔
ہیلو سر یہ کتا کس میڈیا کو کہ رہا ہے@Xadeejournalist pic.twitter.com/75HfQiPRLM
— Shahana (@Shahana808) October 17, 2021
چیئرمین پیپلزپارٹی کا اشارہ کچھ مخصوص میڈیا گروپس کی طرف تھا جو کہ مستقل سندھ حکومت کی کارکردگی اور پیپلزپارٹی کی سیاست کو ہدفِ تنقید بناتے ہیں۔
وفاقی حکومت اسی ہیجانی کیفیت سے ملک کو بچانے کے لیے اور انتشار کو ختم کرنے کے لیے جعلی، جھوٹی اور منفی خبروں کا تدارک کرنا چاہتی ہے، پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اس سلسلے میں قائم ہونی ہے لیکن اپوزیشن پارٹیز اس کی مخالفت کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
فیک نیوز کیا ہوتی ہے، ایک صحافی نے اینکرز کو سمجھا دیا!
پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل پر تمام فریقین مذاکرات پر متفق
بلاول بھٹو کو چاہیے کہ پی ایم ڈی اے بل کی راہ میں رکاوٹ نہ کھڑی کریں اور بل پاس کروانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو حکومت کے ساتھ چلنے پر آمادہ کریں۔
حزب اختلاف کی جماعتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کا یہ شکوہ ہے کہ پی ایم ڈی اے قائم ہونے کے بعد قوم کا حق آزادی اظہار رائے سلب ہوجائے گا یا میڈیا کو خبروں کی ترویج میں مشکل ہوگی۔
میڈیا مالکان اور صحافی تو بل کی مخالفت ہی کریں گے کیونکہ اس طرح ان کے "کاروبار” پر جس کو وہ "صحافت” کی چادر ڈال کر جاری رکھے ہوئے ہیں اس پر ضرب پڑے گی۔
یہ بات حزب اختلاف کے رہنماؤں، خاص طور پر اب جبکہ بلاول بھٹو کا میڈیا سے کھل کر اختلاف سامنے آگیا ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ میڈیا اتھارٹی قائم ہونے سے جعلی خبروں اور جھوٹے پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوسکے گا جس سے بلاول خود پریشان ہیں۔









