جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی زمین پر جعلسازی کے ذریعے قبضے کا معاملہ
سابق ڈی سی ملیر نے جعلسازی کے ذریعے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی زمین مبینہ طور پر بلڈر کو الاٹ کی، شکایت پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کردی

سابق ڈی سی ملیر نے جعلسازی کے ذریعے جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی زمین مبینہ طور پر بلڈر کو الاٹ کی، شکایت پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کردی، چار ایکڑ زمین 28 سال پہلے کی تاریخ میں الاٹ کرانے کا انکشاف،ایف آئی اے کی جانب سے تحقیقات جاری۔
سول ایوی ایشن کی جانب سے ایف آئی اے کو خط لکھا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی چار ایکڑ زمین جعلسازی کے ذریعے مبینہ طورپر ایک بلڈر کو الاٹ کردی گئی ،سول ایوی ایشن کی درخواست پر ایف آئی اے نے باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہے ، شکایت جب وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچی تو سی ایم ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی سمر ی وزیر اعلی ہاؤس نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیے
سرکاری اراضی واگزار کرانے اور گروی رکھنے کے متضاد حکومتی اقدامات
ملیر ایکسپریس وے کے روٹ پر قبضہ مافیا کا راج
ملیر کے ڈپٹی کمشنر اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے افسران کی ملی بھگت سے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی زمین کو 1992 میں جعلی سمری کے ذریعے نبی بخش نامی شخص کو الاٹ کی گئی اس کے بعد مذکورہ زمین کو ایک بلڈر کے نام ٹرانسفر کیا گیا ، ایف آئی اے کی تفتیش میں وزیراعلیٰ ہاؤس نے سمری کو جعلی قرار دے دیا، سابق ڈی سی ملیر محمد علی شاہ اور دیگر کے خلاف ایف آئی اے کی تفتیش میں کوئی بڑی کاروائی نہیں ہوسکی تاہم تحقیقات تاحال جاری ہیں۔










