سوڈان میں فوجی بغاوت، وزیراعظم سمیت اعلیٰ حکام نظربند
سوڈانی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے ساتھ وزیراعظم عبداللّٰہ حمدوک کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا

سوڈان میں فوج اور سول حکام کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدہ صورتحال کے باعث آخرکار نامعلوم مسلح افراد نے سوڈان کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ وزیراعظم کو گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔
عرب میڈیا سے حاصل اطلاعات کے مطابق افریقی ملک سوڈان میں اپریل 2019 میں عمر البشیر کے اقتدار سے نکالے جانے کے بعد فوجی اور سول حکام کے درمیان کشیدہ صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ گئی ہے ، سوڈانی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے ساتھ وزیراعظم عبداللّٰہ حمدوک کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا ہے جبکہ وزیر صنعت، وزیر اطلاعات، وزیراعظم کے میڈیا ایڈوائزر کے علاوہ ترجمان خود مختار کونسل، گورنر خرطوم کے علاوہ دیگر کئی اہم حکومتی عہدیداران کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں پیر کو علی الصبح سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی دیکھی گئی اس دوران م دارالحکومت میں انٹرنیٹ اور فون سروس منقطع کر دی گئی۔ ایک نامعلوم عسکری فورس نے چار وزرا کے علاوہ خود مختار کونسل کے شہری رکن محمد الفکی کو بھی حراست میں لے لیا۔
سوڈان کی وزارتِ اطلاعات کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عبداللہ ہمدوک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن مظاہرے کریں اور ’انقلاب کا تحفظ‘ کریں۔ وزیراعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی افواج نے انھیں ان کے گھر میں قید کر دیا ہے اور ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ فوجی بغاوت کے حق میں بیان دیں۔
مباشر من #العربية | حملة اعتقالات في #السودان.. تطال وزراء وقيادات وأعضاء بمجلس السيادة وأنباء عن وضع #حمدوك في الإقامة الجبرية https://t.co/xljNr2ctXW
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) October 25, 2021
یہ بھی پڑھیے
تھائی لینڈ کے صحافیوں پر جراثیم کش اسپرے کا چھڑکاؤ؟
مس یونیورس کے مقابلے میں ماڈلز تشدد کے خلاف سراپا احتجاج
وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے سوڈان کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہےجبکہ غیر ملکی خبر ایجنسی نے بتایا ہے کہ سوڈانی رہنماؤں کو فوج نے آج صبح گرفتار کیا ہے ، جمہوری حکومت کے اعلیٰ عہدیداران کی گرفتاری کیخلاف مظاہرین سڑکوں پر آگئے ہیں تاہم فوج کی جانب سے غیر ضروری طورپر گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ،شہر میں انٹر نیٹ اور موبائل فون کی سروس بھی معطل ہے ، شہریوں کی نقل وحرکت پر پابندی عائد ہے، بغاوت کی اطلاعات پر خرطوم ایئرپورٹ کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق فوج کے اہلکاروں نے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو سٹیشن کی عمارتوں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے اور وہاں سے متعدد ملازمین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ عینی شاہد نے کہا ہے کہ عام لوگوں کی آمدورفت کو محدود رکھنے کے لیے شہر میں فوج اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ جمہور نواز گروپس کا مؤقف ہے کہ یہ فوج کی طرف سے دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔گذشتہ جمعرات کو دسیوں ہزاروں افراد نے عبوری حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانے کے لیے خرطوم میں مظاہرہ کیا۔
Following with utmost concern ongoing events in #Sudan.
The EU calls on all stakeholders and regional partners to put back on track the transition process.
— Josep Borrell Fontelles (@JosepBorrellF) October 25, 2021
براعظم افریقہ کے لیے واشنگٹن کے خصوصی ایلچی جیفری فیلٹمین نے اپنی ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سوڈان میں ہونے والی فوجی بغاوت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اُن رپورٹوں پر گہری تشویش ہے جن میں کہا گیا ہے کہ سوڈان میں اقتدار کی باگ ڈور فوج نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
امریکی ایلچی کے مطابق آج صبح سوڈان میں متعدد وزراء کی گرفتاری اس آئینی دستاویز کی مخالفت ہے جس کے تحت ملک میں عبوری حکومت قائم ہے۔ اس حکومت میں عسکری اور شہری دونوں نوعیت کی شراکت داری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ طاقت کے زور پر حکومت میں کسی بھی تبدیلی سے سوڈان کے لیے امریکی سپورٹ کو سنگین خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ 1956 میں سوڈان کی آزادی کے بعد سے ہی ملک کی سیاست میں مسلح افواج نے اہم کردار ادا کیا ہے، آزادی حاصل کرنے کے محض دوسالوں بعد ہیمیں چیف آف سٹاف میجرجنرل ابراہیم آبود نے ایک خونی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کر لیا تاہم سول حکام قربانیوں سے سنہ 1964 کی ایک مقبول بغاوت نے فوج کو اقتدار چھوڑنے پر مجور کر دیا۔یہ قربانی زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکی اور 1969 میں کرنل جعفر النیمیری کی سربراہی میں ایک اور بغاوت کے بعد فوج ایک مرتبہ پر اقتدار میں آگئی جعفر النیمیری کو خود کئی بغاوتوں کا سامنا رہا۔1985 میں لیفٹیننٹ جنرل عبد الرحمان سوار الدحاب کی سربراہی میں فوجی سربراہان کے ایک گروہ نے النیمیری کو اقتدار سے نکال باہر کیا۔









