ایم این اے عالیہ ملک نے عاصمہ شیرازی کے کالم کا پوسٹ مارٹم کردیا
عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ حکومت جھوٹی اور جعلی خبروں کے تدارک کے لیے پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی بل لانا چاہتی ہے لیکن صحافی تو اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

پچھلے دنوں اینکرپرسن عاصمہ شیرازی کے تحریر کردہ ایک کالم پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری رہی، سوشل میڈیا پر خاتون صحافی کے متعلق غیرمحتاط زبان استعمال کی گئی اور کئی میڈیا پروگرامز کا موضوع عاصمہ کا کالم رہا۔
عاصمہ شیرازی نے اشاروں کنایوں اور استعاروں میں بات کرکے موجودہ سیاسی صورتحال اور ملکی حالات کے مستقبل کی پیش بندی کی تھی جس میں انہوں نے حکومت پر تنقید کے نشتر چلائے۔
یہ بھی پڑھیے
گزرا 12 اکتوبر بہت سوں کی امیدوں پر پانی پھیر گیا
قوم کی بیٹی ہو، تمہارا نام کافی ہے!
سلیم صافی کے پروگرام جرگہ میں پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ ملک نے عاصمہ شیرازی کے روبرو بیٹھ کر انہیں آئینہ دکھایا اور کالم میں تحریر کیے گئے نکات کو گفتگو میں شامل کرکے غلط ثابت کیا۔
عالیہ حمزہ ملک اپنے مخصوص دبنگ انداز میں عاصمہ شیرازی کو آئینہ دِکھاتے ہوئے ۔۔اگر دیگر وزیر و مُشیر بھی صحافیوں سے اپنی دوستیاں نہ نبھائیں اور تیاری کرکے آئیں تو یہ زرخرید میڈیا اپنے پاؤں پر کھڑا نہ رہ سکے @aliya_hamza
pic.twitter.com/MUHMOStGyj— Noshi Gilani (@noshigilani) October 24, 2021
عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ حکومت جھوٹی اور جعلی خبروں کے تدارک کے لیے پاکستان میڈیا ڈیویلپمنٹ اتھارٹی بل لانا چاہتی ہے لیکن صحافی تو اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں، میڈیا بل کے خلاف دھرنا دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی رکن نے عاصمہ شیرازی سے براہ راست سوال پوچھا کہ یہ آپ نے کس کے بارے میں لکھا ہے کہ سوئیاں چبھوتی ہیں، کون پُتلوں میں سوئیاں چبھوتا ہے؟ عاصمہ شیرازی کے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا، وہ زچ ہوگئیں۔
اس موقع پر الٹا عاصمہ نے عالیہ ملک سے سوال پوچھ لیا کہ آپ بتا دیجیے، سوئیاں کون چبھوتا ہے، میں نے تو استعارے کے طور پر یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔
عاصمہ شیرازی یہاں بھی اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکاری تھیں اور رکن قومی اسمبلی سے پوچھا کہ آپ نے فکشن پڑھی ہے؟ یہ سوال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خاتون صحافی کسی زعم میں مبتلا ہیں۔
عالیہ ملک نے سادہ سا جواب دیا کہ جی ہم تو ان پڑھ لوگ ہیں، صرف آپ ہی تعلیم یافتہ ہیں۔
اس پروگرام میں عالیہ حمزہ ملک نے عاصمہ شیرازی کے تحریر کردہ کالم اور اس میں کیے گئے بےبنیاد دعووں کی قلعی کھول دی۔ عاصمہ نے جس طرح قومی اداروں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اس پر سوشل میڈیا صارفین نے اپنا ردعمل دیا جسے میڈیا کی جانب سے حکومتی کارندوں کا کام بتایا گیا۔









