جوہری معاہدہ مذاکرات: ایران پر پابندیاں ختم ہونے کی امید
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں امریکا کو یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے خود کو الگ کرلیا تھا

2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی کےلئے گذشتہ کئی ماہ سے تعطل کے بعد ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان پیر کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں مذاکرات کا آغاز ہو گیا۔
ایران نے اس معاہدے کے حوالے سے عوامی سطح پر سخت مؤقف اختیار کیا جس کے بارے میں مغربی طاقتوں کا کہنا تھا کہ اس سے بات نہیں بنے گی تاہم اس کے باوجود یورپی یونین، ایران اور روس کے سفارت کاروں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ 2015 کا ایٹمی معاہدہ بحال ہوجائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
مشرقی وسطیٰ ایک بڑی تبدیلی کی جانب گامزن (دوسری قسط)
چین کے بعد ایران بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آگیا
گذشتہ روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں کی ایران کے جوہری صلاحیت کے حوالے سے مہینوں سے تعطل کا شکار معاہدے کی بحالی کےلئے مذاکرات شروع ہوئے ، مذاکرات دو گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہے ۔ پہلے روز کی بات چیت کے بعد یورپی یونین، ایرانی اور روسی سفارت کاروں نے مثبت نتائج کی امید ظاہر کی۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2018 میں امریکا کو یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے خود کو الگ کرلیا تھا جس کے باعث صورتحال گھبیر ہوگئی تھی اور اب اس پر فوری عمل نہیں کیا گیا تو خطے میں عدم استحکام ہوسکتا ہے ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان اس جوہری معاہدے کو بچانے کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے ۔
مذاکرات کے پہلے دن کے اختتام کے بعد اس کی صدارت کرنے والے یورپی یونین کے نمائندے اینریکے مورا نے کہا، "میں نے آج جو کچھ دیکھا اس کے حوالے سے انتہائی پر امید ہوں۔”
ویانا کے ہوٹل پیلس کوبرگ میں ہونے ا س غیر معمولی مذاکرات میں ایران کے علاوہ برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس کے سفارتکار شامل تھے دوسری جانب اس معاہدے کے سب سے اہم رکن امریکا مذاکرات میں براہ راست شامل نہیں تھا کیونکہ ایران اس کے ساتھ بلاواسطہ مذاکرات نہیں کرنا چاہتا۔









