ملک بھر میں کورونا کی لہر شدید، کیا تعلیمی ادارے بند ہونے جارہے ہیں؟
محکمہ صحت سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر میں کورونا کے 2677 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 2424 کیسز کا تعلق کراچی سے ہے۔
کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومی کرون نے ملک کے مختلف حصوں میں تیزی سے پنجے گاڑنا شروع کردیے ہیں خاص طور پر کراچی میں جہاں گذشتہ روز کووڈ 19 کے کیسز کی شرح 40 فیصد سے زائد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ملک بھر میں کیسز کی شرح میں اضافے اور اموات کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)نے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم کا ہنگامی اجلاس آج طلب کرلیا ہے۔
ملک میں وبائی مرض کی 5ویں لہر کووڈ 19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف عمل نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (NCOC) نے صوبائی وزرائے تعلیم اور صحت کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
عالمی ادارہ صحت نے کرونا کے دو نئے طریقہ علاج کی منظوری دے دی
سکھر میں لڑکی کامیاب آپریشن ، پیٹ سے ڈیڑھ کلو وزنی بالوں کا گچھا برآمد
این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلسل تیسرے روز ملک بھر میں 4 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جبکہ اسی عرصے کے دوران 7 افراد اس موذی مرض کا شکار ہو کر اپنی جان گنوا بیھٹے ہیں۔
Statistics 17 Jan 22:
Total Tests in Last 24 Hours: 49,809
Positive Cases: 4340
Positivity %: 8.71%
Deaths :7
Patients on Critical Care: 781— NCOC (@OfficialNcoc) January 17, 2022
این سی او سی کے حکام کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کےدوران 49 ہزار 809 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں سے 4 ہزار 340 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح مثبت کیسز کی شرح 8.71 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترجمان این سی او سی کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے موذی مرض میں مبتلا 781 مریضوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
این سی او سی کے ترجمان کے مطابق آج کے اجلاس میں صوبائی وزرائے تعلیم اور ہیلتھ منسٹرز تعلیم کے شعبے ، عوامی اجتماعات ، شادی بیاہ کی تقریبات ، انڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے حوالے سے آنے والی تجاویز پر غور کریں گے۔
صوبائی وزرائے تعلیم اور وزرائے صحت کا اجلاس بلانے کا فیصلہ این سی او سی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ اجلاس میں ملک کے شہری مراکز میں بیماری کے بڑھتے ہوئے کیسز کے تناظر میں وبائی مرض کے چارٹ کے اعداد و شمار، بیماری کے پھیلاؤ اور تجویز کردہ ایس او پیز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دو روز قبل ہونے والے اجلاس میں 17 جنوری یعنی آج سے سے پروازوں میں کھانے اور ناشتے کی فراہمی پر مکمل پابندی کے نفاذ کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی سے کہا گیا کہ وہ دوران پرواز ماسک پہننے کو یقینی بنائے اور تمام ہوائی اڈوں پر ایس او پیز کو بھی نافذ کرے۔ 17 جنوری سے پبلک ٹرانسپورٹ میں کھانے اور اسنیکس کی فراہمی پر بھی پابندی ہوگی۔
این سی او سی نے وفاقی اور صوبائی حکام سے کہا ہے کہ وہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کریں خاص طور پر ماسک پہننے اور ویکسینیشن کے لازمی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔
این سی او سی نے وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ جاری ویکسینیشن مہم کو تیز کریں اور ویکسینیشن کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لائیں۔
کراچی میں کورونا کیسز میں اضافہ شدید تر
کراچی میں کورونا وائرس کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، کووڈ 19 کی 5ویں لہر کے دوران اومی کرون ویریئنٹ کے ذریعے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران میٹروپولیٹن سٹی میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
اتوار کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 15 ہزار 172 نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں مثبت 2 ہزار 677 کیسز رپورٹ ہوئے ۔ رپورٹ ہونے والے 2 ہزار 424 کیسز کا تعلق کراچی سے تھا ، رپورٹ ہونے والے کیسز میں سے 229 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 18 مریض وینٹی لیٹر پر زیر علاج ہیں۔
شہر میں مثبت کیسز کی شرح میں ایک ہی دن میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ اومی کرون کے 460 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ رپورٹ ہونے والے 95 فیصد کیسز اومی کرون قسم کے تھے۔
صوبائی محکمہ صحت سندھ نے صوبے کے تمام اسکولوں کے طلباء کا ترتیب وار کورونا ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران کو ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔









