چین سے پیٹرول کی درآمد، وزارت پیٹرولیم نے او ایم سی سے ڈیٹا مانگ لیا
واضح رہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں آزاد تجارتی معاہدے کے تحت چین سے صفر فیصد (بغیر) ڈیوٹی کے پیٹرول درآمد کر سکتی ہیں۔
وزارت پیٹرولیم کے حکام نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) سے کہا ہے کہ وہ چین سے پیٹرول کی درآمد کا مکمل ڈیٹا جمع کرائیں۔
تفصیلات کے مطابق وزارت پیٹرولیم نے آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) کو ایک خط بھیجا ہے جس میں اس سے کہا گیا ہے کہ وہ کارگو کا نام، پورٹ کی اصل، درآمد تیل کی لیٹر میں مقدار، آف لوڈنگ پورٹ کے ساتھ ڈیکنٹنگ کی تاریخ اور کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیے
پیٹرول پرائس پر ٹیکس کے بجائے لیوی میں اضافہ، مسئلے کا حل کیا؟
20 ٹریلین کی ریٹیل مارکیٹ سے 4 ٹریلین کے اعدادوشمار آتےہیں، ایف بی آر
واضح رہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں آزاد تجارتی معاہدے کے تحت چین سے صفر فیصد (بغیر) ڈیوٹی کے پیٹرول درآمد کر سکتی ہیں۔ جبکہ مشرق وسطیٰ سے درآمدات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد ہے۔
خط میں کمپنیوں کو چین سے درآمد شدہ پیٹرول کا دو سال کا ڈیٹا جمع کرانے کو کہا گیا ۔ یہ تجارت یکم جنوری 2020 سے شروع ہوئی تھی جو کہ 2024 تک موثر رہے گی۔









