کراچی میں ایم کیوایم کا بلدیاتی قانون کیخلاف وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا

ایم کیوایم پاکستان نے بلدیاتی قانون کیخلاف شارع فیصل سے پریس کلب تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا، کارکنوں نے میٹروپول سے پہنچنے کے بعد ریلی کا رخ موڑ دیا۔

کراچی میں ایم کیوایم  پاکستان  نے  سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کیخلاف ریلی نکالی، کارکن پولیس کو چکمہ دیکر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔سابق میئروسیم اختر کی قیادت  میں کارکنوں  نے  وزیراعلیٰ ہاؤس کے دھرنا دیدیا۔

کراچی میں ایم کیوایم پاکستان نے سندھ حکومت کے بلدیاتی قانون کیخلاف  آج دوپہر شارع فیصل سے پریس کلب تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔ایم کیوایم کی ریلی کے باعث شارع فیصل، شہید ملت ایکسپریس وے، ایم اے جناح روڈ  سمیت مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ کی اپوزیشن نے نئے بلدیاتی قانون کیخلاف طبل جنگ بجادیا

نئے نظام میں بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات حاصل ہیں،ایڈمنسٹریٹر کراچی

ایم کیو ایم کے کارکن  شارع فیصل پر نرسری ،گورا قبرستان اور ریجنٹ پلازا سے ہوتے ہوئے میٹروپول ہوٹل پہنچے اور وہاں سے پریس کلب جانے کے بجائے پولیس کی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاؤس تک جاپہنچے۔پولیس نے ایم کیوایم کے رہنما وسیم اختر سے مذاکرات کی کوشش کی تاہم کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

کارکنوں کے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچنے کے بعد ایم کیوایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی،عامر خان،وفاقی وزیر امین الحق اور دیگر رہنما بھی پریس کلب سے وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایم کیوایم کے کارکنوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے زیادہ دیر احتجاج کرنے نہیں دیا جائے ،ایم کیوایم کے کارکن منتشر نہ ہوئے تو طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔ایم کیوایم کے احتجاج کے پیش نظر وزیراعلیٰ ہاؤس کا مرکزی دروازہ بند کرکے پولیس کی بھارتی نفری تعینات کردی گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر