وزیراعظم کا دورہ روس ، امریکا کی ناراضگی مول لینے کا تیسرا واقعہ
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ وہ کسی ایک کیمپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اور سارے انڈے بھی امریکا کی باسکٹ میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان آج دو روزہ سرکاری دورے پر روس روانہ ہوں گے ، یوکرین کو لے کر روس اور امریکا کے درمیان تنازع شدت اختیار کرتا جارہا ہے ایسے میں وزیراعظم کا دورہ امریکا کو ناراض کرنے کا تیسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔
دفتر خارجہ (ایف او) نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کی دعوت پر 23 فروری سے ماسکو کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے
سینیٹر رحمان ملک اسلام آباد کے اسپتال میں انتقال کرگئے
پاکستان کی قومی اسمبلی کو آسیان بین الپارلیمانی اسمبلی میں مبصر کا درجہ مل گیا
عمران خان کا دورہ ، دو دہائیوں میں کسی پاکستانی وزیر اعظم کا پہلا دورہ ہے – جس کے دوران وہ صدر ولادی میر پیوٹن سے بات چیت کریں گے اور توانائی کے تعاون سمیت دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے۔ اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت کی جائے گی۔
آصف علی زرداری نے بطور صدر 2011 میں اس وقت کے روسی صدر دمتری میدویدیف کی دعوت پر ماسکو گئے جس کے بعد کسی اعلیٰ پاکستانی رہنما کا ماسکو کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔
وزیراعظم کا دورہ روس اور پاک امریکا تعلقات میں تناؤ
وزیر اعظم کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں کشیدگی موجود ہے ، امریکہ اور یورپی طاقتوں کو خدشہ ہے کہ روس یوکرین کی سرحد پر حملہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب کیف کے علیحدگی پسندوں ماسکو کی حمایت حاصل ہے جبکہ یوکرین کی فوج اور علیحدگی پسندوں کے درمیان فرنٹ لائن پر گولہ باری کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس نے اپنے ایک بیان میں روس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر روس نے حملہ کیا تو وہ بھی "سخت اور سنگین نتائج” کے لیے تیار رہے۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا روس کا دورہ چین کے دورے کے چند ہفتوں بعد آیا ہے جہاں انہوں نے بیجنگ سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی جبکہ امریکہ، یورپی یونین اور کئی مغربی ممالک کی جانب سے میگا ایونٹ کا سفارتی بائیکاٹ کیا تھا۔ وزیراعظم نے اس سب کے باوجود صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ چینی قیادت سے بات چیت کی تھی ، اس تقریب میں صدر پیوٹن نے بھی شرکت کی۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ماسکو ، جو روس اور یوکرین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آیا ہے۔ امریکا اور مغرب کے لیے ایک واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب وزیراعظم عمران خان نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پاکستان میں فوجی اڈے دینے پر واشنگٹن کو انکار کردیا تھا اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کی جانے والی فون کال وصول نہیں کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا۔
وزیراعظم عمران خان اور صدر پیوٹن کا ٹیلی فونک رابطہ
جنوری میں، وزیر اعظم عمران نے روسی صدر پیوٹن سے ٹیلی فونک بات چیت کی تھی، جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے ممالک کے دورے کی دعوت دی تھی۔
فون کال کے دوران، وزیر اعظم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے خلاف "پُرزور” بیان پر روسی رہنما کا شکریہ بھی ادا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا تھا کہ "وہ پہلے مغربی رہنما ہیں جنہوں نے ہمارے "پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے لیے مسلمانوں کے جذبات کے لیے ہمدردی اور حساسیت کا مظاہرہ کیا۔”
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا تبصرہ
سیاسی اور دفاعی تجزیہ کاروں نے وزیراعظم کے موجودہ دورہ روس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کا امریکا کو ناراض کرنے کا تیسرا واقعہ ہوسکتا ہے۔ اس کے قبل امریکا کو اڈے دینے کے حوالے سے کہا تھا ’ایبسولیوٹلی ناٹ‘ اور اس کے بعد سے خاموشی چھائی ہے اور امریکا صدر جوبائیڈن کا فون نہیں آیا۔ اسی طرح امریکا نےچین کے ونٹر اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا مگر وزیراعظم نے امریکی مخالفت کے باوجود دورہ چین کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایسے وقت میں روس کا دورہ کررہے ہیں جب بہت سے مشورہ دینے والے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وزیراعظم کو روس نہیں جانا چاہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وزیراعظم عمران خان یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ وہ کسی ایک کیمپ کے ساتھ نہیں کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔ اور سارے انڈے بھی امریکا کی باسکٹ میں نہیں ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ ہر طرف اپنے آپشنز کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس دورے کا رسک فیکٹر کتنا ہوگا یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن وزیراعظم یہ شو کررہے ہیں یا کرنا چاہ رہے ہیں کہ وہ امریکا کو ناراض کرکے پاکستان کے لیے دیگر فروٹ فل آپشنز کو ایکسپلور کررہے ہیں۔









