عالمی تناؤ میں روس کا دورہ کرنیوالے عمران خان کیا اپوزیشن سے نمٹ لیں گے؟

وطن واپسی کے فوری بعد وزیراعظم کے کراچی میں ایم کیوایم کے بہادر مرکز جانے کا امکان، اسپیکر اسد قیصر کا ق لیگ سے رابطہ، حکومت کی جہانگیر ترین گروپ سے بھی رابطے کی کوشش

عالمی تناؤ کی صورتحال میں روس کاکامیاب دورہ کرنے والے عمران خان کیا اپوزیشن سے بھی کامیابی سے نمٹ لیں گے؟ ملک کی داخلی سیاست میں یہ سوال اس وقت سب سے زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو 2روزہ کامیاب دورہ روس کے بعد تحریک عدم اعتماد کا چیلنج درپیش ہے۔

یہ بھی پڑھیے۔

تحریک عدم اعتماد: مسلم لیگ (ق) نے حزب اختلاف کو اپنے پتے دکھا دیئے

اپوزیشن پی ٹی آئی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں کنفیوژن کا شکار

وزیراعظم عمران خان کی زیرقیادت حکومت کو وزیراعظم کے حالیہ دورہ روس پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ یوکرین کے بحران کے دوران اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس کے دوران روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے غیر معمولی استقبال کیا۔تاہم اب وزیراعظم کو پاکستان واپسی کے بعد سیاسی طرز کے اندرونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپوزیشن جماعتیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف مرحلہ وار تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دیتی نظر آ رہی ہیں جس کا آغاز اسپیکر قومی اسمبلی کی برطرفی سے ہونے کا امکان ہے۔

تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہوئے بغیر پی ٹی آئی حکومت کو مرحلہ وار گھر بھیجنے کیلیے کے لیے ہاتھ ملاچکی ہیں ۔

پاکستان مسلم لیگ ن ،پیپلزپارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے باہمی رابطوں میں تیزی لاتے ہوئے حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بھی اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی ہے۔ق لیگ پرویزالہٰی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی شرط پر حکومتیں بینچز چھوڑنے پر آمادہ نظر آتی ہے تو دوسری جانب ایم کیوایم نے بھی کسی بھی وقت لائن عبور کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ایسے میں حکومت کا آخری سہارا جہانگیر ترین گروپ  ہی بچا ہے جس  سے حکومتی سطح پر رابطے کی کوششیں تیز کردی گئی ہیں۔

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ امکان ہے کہ وفاقی حکومت جہانگیر ترین گروپ کے ارکان اسمبلی سے رابطہ کرے گی تاکہ انہیں  تحریک عدم اعتمادمیں  اپوزیشن کا ساتھ دینے سے روکا جاسکے ۔

دوسری جانب حکومت نے اتحادیوں کو منانے کی کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے   مرکز اور پنجاب میں  حکومتی اتحادی  ق لیگ سے رابطہ کیا ہے ۔اسپیکر قومی اسمبلی اور ق لیگ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیرآبی وسائل مونس الہٰی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔جس میں مونس الہٰی نے ایک مرتبہ پھر حکومت کو اپنی پارٹی کی حمایت کا یقین دلایا اور اپوزیشن رہنماؤں سے ان کے رابطوں کو محض”سیاسی بات چیت“ قرار دیاہے۔

ادھر امکان ہے کہ وزیراعظم  وطن واپسی کے فوری بعد کراچی جاکر اپنی اہم اتحادی جماعت ایم کیوایم کے بہادر آباد مرکز جائیں جس کا عندیہ وہ دورہ روس سے قبل دے چکے تھے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے میں کامیاب ہوتی ہے یا عمران خان تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر جانے والے پہلے وزیراعظم بنتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر