بابر اعظم کی اسپیشل چائلڈ منیب الباری کی حوصلہ افزائی

منیب الباری کا کہنا ہے کہ کرکٹ کھیلنا میرا جنون ہے پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔

17 سالہ اسپیشنل چائلڈ منیب الباری کے عزم کو دیکھتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ہے آپ کا کردار دوسروں کے لیے ایک تحریک ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائت ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے لکھا ہے کہ "آپ سب کے لیے ایک مشعل راہ ہیں ، آپ تمام کامیابیوں اور عزت کے مستحق ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل 7 کی ٹرافی قلندرز کے نام ، انعامات کی برسات سلطانز کے نام

لاہور قلندرز پی ایس ایل 7 کی فاتح، ملتان سلطانز ڈھیر ہوگئے

بابر اعظم نے مزید لکھا ہے کہ "میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں، محنت کرتے رہیں اور کبھی امید نہ ہاریں۔ میں آپ کو زندگی کے ہر شعبے خصوصاً کرکٹ میں کامیاب و کامران دیکھنا چاہتا ہوں۔”

اسپیشل چائلڈ منیب الباری

منیب الباری کا تعلق کراچی ہے۔ اپنے متعلق گفتگو کرتے ہوئے منیب الباری نے بتایا کہ "میں ایک اسپیشل چائلڈ ہوں۔ کرکٹ کھیلتا ہوں ، میں زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کرکٹ کو جنون کی حد تک شوق ہے۔”

منیب الباری نے بتایا کہ "شروع یہ میں مشکلات ہوتی تھیں کہ جب بیٹ پکڑتا تو تکلیف ہوتی تھی ۔ سب چیزیں آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتی چلی گئیں۔ اب رننگ بھی کرلیتا ہوں پہلے نہیں ہوتی تھی۔ تھک جاتا ہوں مگر مجھے کرکٹ کا بہت جنون ہے۔ کرکٹر بننے کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ مجھے آگے آگے اپنی بیٹنگ مزید بہتر کرنی ہے۔”

انہوں نے بتایا کہ "مجھے کرکٹ کا شوق تھا ۔ پھر میں کرکٹ اکیڈیمی جوائن کی ۔ پہلے میرے ہاتھ پاؤں میں درد ہوتا تھا۔ باؤلنگ کرنے میں مشکل ہوتی تھی۔ اب ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اب کھیلنے میں صحیح ہوں اور باؤلنگ بھی ٹھیک کراتا ہوں۔”

منیب الباری کا کہنا تھا کہ "پاکستان کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں۔ امی کہا کرتی تھیں کہ کبھی اللہ تعالیٰ کی ذات سے مایوس نہیں ہونا۔ بس یہ باتیں تھیں۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ چھوٹا جارہا ہے ۔ لوگ کہتے تھے کہ یہ دیکھو کیسے چلتا ہے مگر میری امی مجھے حوصلہ دیتی رہتی تھیں۔ ابو بھی بہت سپورٹ کرتے ہیں۔ جب پریکٹس کے لیے یہاں آیا تو کسی نے بھی کوئی مذاق نہیں اڑایا۔”:

اکیڈیمی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے منیب الباری نے بتایا کہ "سب دوست اچھے ہیں سب کوچز اچھے ہیں ۔ سب سپورٹ کرتے ہیں۔ شروع میں مشکلات ہوتی تھیں مگر امی کہتی تھیں امید نہیں چھوڑو ۔ لگے ہو تو پھر کرو ۔ بس یہی چیز تھی جس بنا پر میں آگے بڑھا ۔ اب ماشاءاللہ بیٹنگ میں کافی اچھا ہو گیا ہوں۔ ابھی میری زیادہ توجہ بیٹنگ پر ہے۔ آگے جاکر کرکٹر ہی بننا ہے اور کچھ نہیں۔”

دوسری جانب اکیڈیمی کے کوچز کا کہنا ہے منیب الباری آہستہ آہستہ فٹ ہورہے ہیں جب یہ یہاں پر آئے تھے تو پاؤں بھی نہیں اٹھا پاتے تھے۔

متعلقہ تحاریر