آئی ٹی برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک لے کرجائیں گے، وزیر خزانہ شوکت ترین
وزیر خزانہ کا کہنا ہے مہنگائی میں فروری میں کمی آئی ہے، اگر ٹماٹر کی قیمت کو نکال لیں تو مہنگائی 10.8 فیصد رہ جاتی ہے۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھائے گا اور اپنی آئی ٹی کی برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک لے کر جائے گا۔ عوام کے لیے ریلیف آئندہ کی حکومتوں کے لیے معاشی بارودی سرنگیں نہیں ہے، ریلیف کے لیے تمام فنڈز موجود ہیں۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین نے کہا کہ ملک بھر میں گزشتہ چند دنوں سے سیاسی ہنگامے ہورہے ہیں، سیاست میں معیشت کی کچھ چیزیں گم ہو گئی ہیں،اس حکومت نے پیٹرولیم ریلیف اور بجلی کی قیمت میں ریلیف دیا ہے، یہ پیکیج 28 فروری کو وزیر اعظم عمران خان نے پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹیٹ بینک کی چھٹی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75 فیصد برقرار
پاک افغان دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت
ان کا کہنا تھاکہ 28 فروری سے پہلے حکومت ماہانہ 78 ارب روپے کی سبسڈی دے رہی تھی، اب مارچ میں 104 ارب روپے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی دی جارہی ہے۔
شوکت ترین نے کہا کہ دنیا میں جو ہورہا ہے اس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، پیٹرولیم لیوی کو کم کیا اور سیلز ٹیکس کو صفر کردیا، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ یہ بوجھ حکومت عوام پر نہیں ڈال رہی۔
ان کا کہنا تھاکہ 700 یونٹ استعمال کرنے والی گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی سے حکومت پر 136 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے صنعتی شعبے کو ایمنسٹی دینے کا اعلان کیا، یہ حکومت کا بہت بڑا قدم اور صنعت نے اس پر لبیک کہا، نقصان میں جانے والی اور بیمار صنعتوں کو نقصانات کو ایڈجسٹ کیا جائیگا۔
وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے برآمدات میں مراعات دی گئی ہیں، پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ ماہ گرا ہے، تجارتی خسارہ فروری میں 3.1 ارب ڈالر رہا، تجارتی خسارہ 5 سو سے 6 سو ارب روپے پر آگیا ہے، اس پر وزارت تجارت کو اس پر تفصیلی بات کرنی چاہیے۔
شوکت ترین نے کہا کہ مہنگائی میں بھی فروری میں کمی آئی ہے، اگر ٹماٹر کی قیمت کو نکال لیں تو مہنگائی 10.8 فیصد ہوتی، اشیاء کی ڈومیسٹک قیمتوں کو حکومت نے کنٹرول کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ امریکی صدر نے بھی کہا ہے کہ مہنگائی برداشت کرنی پڑے گی، اوورسیز چیمبر کی پریس کانفرنس کو درست کور نہیں کیا گیا، ان کے سروے کے مطابق پاکستان کے پرسیپشن انڈیکس میں بہتری آئی ہے، پاکستان پہلے تین ملکوں سے بہتر تھا اب 6 ممالک سے بہتر ہو۔
شوکت ترین نے کہا کہ آئی ٹی انڈسٹری میں کئی ریلیف دیئے ہیں، آئی ٹی کو فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت دے رہے ہیں، آیندہ چند سال میں آئی ٹی میں برآمدات 50 ارب ڈالر تک پہنچائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ریلیف پیکیج پر مشاورت کی ہے، آئی ایم ایف کو اس سے تکلیف نہیں ہونی چاہیے، ہم اس پیکیج کے ذریعے مالیاتی خسارہ کو نہیں بڑھا رہے۔ موجودہ سیاسی حالات پر آئی ایم ایف کو کہا ہے کہ ہاتھ ہولا رکھیں، عوام پہلے سے ہی سڑکوں پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین سے 20 ارب ڈالر والی بات سمجھ نہیں آئی، چین کو پاکستان میں کچھ مسائل تھے ان کو چین جانے سے پہلے حل کیا، چینی صدر اور وزیر اعظم صرف پاکستانی وزیر اعظم کو ملے، چینی لیڈر شپ سے اسٹرٹیجک معاملات پر بات ہوئی۔ وزیر اعظم نے چین کے سرمایہ کاروں کو کہا ہے کہ اکنامک زونز بنائے گئے ہیں، وہاں انوسٹمنٹ کریں۔ پاکستان چین کے ساتھ زراعت کے شعبے میں تعاون بڑھائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلیف پیکج سے مالی خسارہ نہیں بڑھے گا، پیٹرولیم مصنوعات پر سالانہ 800 سے 900 ارب کی ہٹ پڑے گی، اس سال 5800 ارب کے بجائے 6100 ارب روپے ٹیکس جمع ہوگا، ترقیاتی بجٹ، احساس اور کورونا فنڈز کا پیسہ ریلیف پیکج پر خرچ کریں گے، گزشتہ حکومت نے جو بارودی سرنگیں بچھائی تھیں سب کو پتہ ہے، ہم کوئی بارودی سرنگیں نہیں بچھا رہے، تمام کے تمام ریلیف کے رقوم واضح ہیں۔ سرکاری اداروں کے پاس 1200 ارب روپے کے ڈیویڈنڈ پڑے ہیں اور وہاں سے ریلیف کے لیے رقم لی ہے۔وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کو کسی کے سامنے گروی نہیں رکھ سکتے-ان کے خیال میں وزیر اعظم کو یورپ کے معاملے پر پبلک میں نہیں کہنا چاہیےتھا-









