ن لیگ کی حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھی عمران خان کے فیصلے کو درست ثابت کردیا
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جون 2022 بڑھانے پر لاک لگا دیا تو اوگرا حکام نے اضافے کی سمری موو کیسے کی۔؟
مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی دونوں سمریاں مسترد کرتے ہوئے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور حکومت کے اس فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ عمران خان درست تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اوگرا کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی ہے جس کے بعد اگلے 15 دن کے لیے پیٹرولیم پرائس میں کوئی ردوبدل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
نئی حکومت کا عوام پر پہلا وار، بجلی 4 روپے 85 پیسے فی یونٹ مہنگی
غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں 45 کروڑ ڈالر کمی
اوگرا کی جانب سے کم سے کم پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کو بڑھاتے ہوئے پیٹرول کی قیمتوں 21 روپے 30 پیسے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی تھی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 51 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافے کی سمری بھیجی تھی۔
واضح رہے کہ تین دن پہلے مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت کے سابقہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ کم سے کم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 40 روپے فی لیٹر بڑھانے کی ضرورت ہے۔
پھر یہ کیسے ہو گیا کہ جو کام سابق وزیراعظم عمران خان کررہے تھے وہ کام وزیراعظم شہباز شریف نے کردیا، یعنی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت نہیں بڑھائی۔
نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مشورے کو رد کرتے ہوئے پیٹرولیم پرائس نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ مفتاح اسماعیل کہہ رہے تھے کہ چالیس نہیں تو 20 روپے فی لیٹر اضافہ تو ہونا ہی چاہیے۔ لیکن سیاسی معاملات مدنظر آئے اور لندن سے زور دیا اسحاق ڈار صاحب نے جو اس وقت دی فیکٹو وزیر خزانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی حکومت اس بوجھ کو برداشت کرلے اور اس قیمت کو ایسے ہی جانے دیں ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیوں نہیں کیا گیا ، اصل سوال یہ ہے کہ جب عمران خان حکومت نے 10 روپے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تھی تو ساتھ یہ بھی لاک لگا دیا تھا کہ اب یہ قیمت جون 2022 تک برقرار رہے تھے تو اوگرا نے سمری موو کیسے کی۔ اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اوگرا کو پہلے کہا گیا ہو کہ آپ سمری موو کریں اور جب پولیٹیکل اور عوام پریشر آئے گا تو سمری کو رد کردیا جائے گا۔ یعنی سیاسی فائدہ حاصل کرلیا جائے گا۔
آئل کی بین الاقوامی منڈیوں پر نظر رکھنے والے معروف تجزیہ کار سمیع اللہ خان نے نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے سے حکومت کو روز کی بنیاد 2 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔









