معیشت کے مثبت اعشاریے سابقہ حکومت کی شاندار کارکردگی کے مظہر
وزارت تجارت کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ پاکستان کی برآمدات 23 ارب 70 کروڑ ڈالر رہی ہیں جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔
نئی حکومت کا دہرا معیار، رواں مالی سال جولائی تا مارچ تک معیشت کے بہتر فگرز اپنے کھاتے اور برے اعداد و شمار کا زمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہرانے لگی، برآمدات میں اضافہ، ترسیلات زر بڑھ گئے، ٹیکس محصولات تاریخ کی بلند ترین سطح پر جبکہ بڑی فصلوں اور بڑی صنعتوں نے بھی 9 ماہ میں شاندار کارکردگی دکھائی۔
مسلم لیگ نون کی نئی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے معیشت کی بد بحالی کا رونا روئے جاتی ہے، نئے وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل معاشی محاذ پر تمام چیلنجز کا زمے دار پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو قرار دیتے ہیں۔ نئی حکومت نے سابقہ حکومت کو مہنگائی کے معاملے میں آڑھے ہاتھوں لیا ہوا اور اسے غریب عوام کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دے کر سابقہ حکومت کو غریب دشمن ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کی تنقید اپنی جگہ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے رواں مالی سال 9 ماہ میں یعنی پہلی تین سہ ماہی کے دوران کچھ اقدامات ایسے کیے ہیں جن کے مثبت اثرات نظر آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
محکمہ لائیو اسٹاک خیبر پختون خوا میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف
سابق وزیر خزانہ نے نئی حکومت کی معاشی ٹیم کو آئینہ دکھا دیا
پی ٹی آئی حکومت جولائی تا مارچ کیا اچھا کرگئی؟
ٹیکس آمدن مقررہ ہدف سے زیادہ رہی
معیشت کی ریڑھ کی ہڈی اس کی آمدن ہے اور تحریک انصاف کی حکومت نے گزشتہ 9 ماہ میں یعنی رواں مالی سال کی پہلی تین سہ ماہی میں ٹیکس آمدن بڑھانے کےلیے دن رات اقدامات کیے۔ ملک میں بڑی دکانوں پر پوائنٹ آف سیل کی مشینیں لگانے کا اہم اور تاریخ ساز کام کیا گیا۔ اس طرح ملک بھر میں بڑی دکانوں، مال اور ہوٹل سے سیلز ٹیکس کی چوری میں خاطر خوا کمی ہوئی اور عوام کی شاپنگ پر جمع ہونے والا سیلز ٹیکس ، چور دکان دار، ہوٹل مالک یا مال کی انتظامیہ کی جیب میں جانے کی بجائے قومی خزانے میں جمع ہوا۔ اس سلسلے میں پوائنٹ آف سیلز کے لیے مکمل اور جامع تشہیری مہم چلائی گئی، لوگوں کو اپنے سیلز ٹیکس پر نظر رکھنے کی تلقین کی گئی، عوام سے کہا گیا کہ وہ پکی رسید پر اصرار کریں، تاکہ ان کا ٹیکس کا پیسہ چوروں کے ہتھے لگنے کی بجائے قومی خزانے میں آئے۔ ملک بھر میں 19 ہزار سے زائد بڑے برینڈکے آؤٹ لیٹ، دکانوں اور ہوٹلز پر پوائنٹ آف سیلز ٹیکس کی مشینیں لگائی گئیں۔ اس طرح اس سیلز ٹیکس کی آڑ میں ان دکان داروں، شاپنگ مال اور ہوٹلز کی آمدنی کا بھی اندازہ لگایا جاسکے گا۔ اس طرح انکم ٹیکس کی چوری میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔ عوام کو سیلز ٹیکس کی پکی رسید لینے پر انعامات سے نواز گیا اور مسلسل چار ماہ سے ہر ماہ 5 کروڑ 30 لاکھ روپے انعامات عوام میں قرعہ اندازی کے ذریعے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق کو آزادانہ کام کرنے کا موقع دیا گیا۔
رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں جولائی تا مارچ سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد کو ازادانہ کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ چیئرمین ایف بی آر کو کسی بھی قسم کے دباؤ، مداخلت اور جانب داری سے آزاد رکھا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے اسمگلنگ کے خلاف بھرپور کارروائیاں کیں اور اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کرنے والے افسران کو سراہا گیا۔ چیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق نے ہر ماہ ای کچہری کا انعقاد کیا اور ٹیکس گزاروں کے مسائل براہ راست سنے اور ان کی شکایات کے ازالہ کے لیے فوری اقدامات کیے۔
مسلسل اصلاحات اور یومیہ بنیاد پر ٹیکس آمدن کا جائزہ لینے کے لیے اقدامات کیے گئے اسی لیے دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑے ٹیکس ریلیف کے باوجود ایف بی آر کے رواں مالی کے سال دوران حاصل شدہ محاصل میں 29اعشاریہ1فیصد اضافہ ہوا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال 2021-22 کے دوران جولائی 2021 سے لے کر مارچ 2022 میں حاصل کردہ محصولات کی ابتدائی تفصیلات جاری کردی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران ایف بی آر نے 4382ارب روپے کے محصولات اکٹھے کئے ہیں جوکہ طے شدہ ہدف سے 247ارب روپے زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران اکٹھے ہونے والے محصولات سے 29اعشاریہ 1 زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں حاصل شدہ محصولات 3394ارب روپے تھے۔رواں مالی سال کے مارچ کے مہینے میں 575 ارب روپے کے محصولات اکٹھے ہوئے ہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے مارچ کے مقابلے میں 20اعشاریہ5فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں مارچ کےمہینے میں 477ارب روپے جمع ہوئے تھے۔
دوسری جانب گراس کولیکشن میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہےجوکہ جوکہ جولائی 2020 تا مارچ 2021 تک 3577 ارب روپے تھے اور موجودہ مالی سال کے جولائی 2021 تا مارچ 2022 تک حاصل شدہ گراس کولیکشن 4611ارب روپے ہے۔ اس طرح اس مد میں موجودہ مالی سال میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 28اعشاریہ 9 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح رواں مالی سال کے مارچ کے مہینے میں 31اعشاریہ9 ارب روپے کے ری فنڈز جاری کئے گئےجبکہ گزشتہ مالی سال کے مارچ کے مہینے میں جاری ہونے والے ری فنڈز 26اعشاریہ3 ارب روپے تھے۔ یوں گزشتہ مالی سال کے مارچ میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم میں اس سال 21اعشاریہ 3 فیصد اضافہ ہوا۔اسی طرح جولائی 2021 تا مارچ 2022 تک 229ارب روپے بطور ری فنڈ جاری کئے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 183ارب روپے ری فنڈ کئے گئے تھے۔ یہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ رواں مالی سال میں جاری ہونے والے ری فنڈز کی رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں 25فیصد زیادہ ہے۔
معاشی ترقی کی بہتری کیسے ہوئی؟
رواں مالی سال عالمی کساد بازاری اور روس اور یوکرین کی جنگ کے بعد عالمی سطح پر بڑھنے والی مہنگائی اور پست معاشی شرح نمو کے باوجود بھی پاکستان میں معاشی ترقی کی شرح 4 فی صد رہنے کا امکان ہے۔ عالمی اداروں کو خدشہ ہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کی وجہ یورپ میں معاشی ترقی کی شرح کم ہوکر محض 0.5 فیصد ہوسکتی ہے جو مالی سال 2021 میں 4 فیصد تھی۔
معاشی ترقی میں زراعت اور صنعت کا کیا کردار رہا؟
معاشی ترقی میں استحکام کی بڑی وجہ بڑی فصلوں اور بڑی صنعتوں میں مسلسل فروغ ہے۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح 4 سے 4.3 فی صد رہنے کا امکان ہے۔ اسی طرح اس سیزن میں گندم کی 28.4 ملین ٹن پیداوار کی توقع کی جا رہی ہے۔ عالمی منڈی میں ڈی اے پی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باوجود بھی پاکستان میں گندم کے فصل بہتر ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ پاکستان میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 4.5 فیصد سے زائد رہنے کا کی توقع ہے۔ پاکستان میں معدنیات کا شعبہ 4.7 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان میں زرعی ٹریکٹرز کی پیداوار میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔
وزارت خزانہ کی جولائی تا مارچ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا جنوری 7 ماہ میں بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 7.6 فیصد رہی جو گزشتہ مالی سال میں اسی عرصے میں 1.8 فیصد تھی۔ ۔ اعداد و شمار کے مطابق پہلے 7ماہ میں 1 لاکھ 33 ہزار 791 کاریں اور جیپیں تیار کی گئیں۔ لائٹ کمرشل وہیکلز، ٹریکٹرز، ٹرکوں، بسوں کی پیداوار بھی بڑھ گئی۔ اس طرح اس دوران 32 ہزار 585 ٹریکٹر، 16 ہزار 358 لائٹ کمرشل گاڑیاں تیار ہوئیں جبکہ 414 ٹرک، 339 بسیں جبکہ 14 لاکھ سے زیادہ موٹر سائیکل تیار کیئے گئے ہیں۔
پاکستان میں برآمدات کے فگرز کتنے حوصلہ افزا ہیں؟
وزارت تجارت کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ پاکستان کی برآمدات 23 ارب 70 کروڑ ڈالر رہی ہیں جو گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ پاکستان کی برآمدات 18 ارب 68 کروڑ ڈالر تھیں۔
اس دوران رواں مالی سال جولائی تا مارچ پاکستان کی درآمدات 58 ارب 87 کروڑ ڈالر رہیں جو گزشتہ مالی سال کی نسبت 49فیصد اضافہ ہوا ۔ گزشتہ مالی سال جولائی تا مارچ پاکستان کی درآمدات 38 ارب 48 کروڑ ڈالر تھیں۔ درآمدات کی بڑی وجہ روپے کی قدر کم ہونے سے ڈالر مہنگا ہونا ہے اور جبکہ روس اور یوکرین کی جنگ نے بھی عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات سمیت کھانے پینے کی اشیا کے ریٹ میں اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں بھی امپورٹڈ اشیا کے مہنگی درآمد ہو رہی ہیں۔
سمندر پار پاکستانیز کی ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا مارچ سمندر پار پاکستانیز نے حکومت پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی ترسیلات بڑی تعداد میں پاکستان بھیجیں۔ جولائی تا مارچ ترسیلات زر میں 7.1 فیصد اضافہ ہوا اور ان تین سہ ماہی کے دوران سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر 23 ارب ڈالر سے زائد رہیں۔









