کراچی سے لڑکیوں کے فرار نے خاندانی نظام کی زبوں حالی کا پول کھول دیا

آن لائن گیمنگ ایپلی کیشنز  بھی لڑکیوں کو ورغلانے اور اہلخانہ سے بغاوت پر اکسانے کا اہم ہتھیار بن گئیں،کراچی سے فرار ہونے والی تینوں لڑکیوں نے پب جی پر دوستیاں کیں

کراچی سے لڑکیوں کے فرار نے خاندانی نظام کی زبوں حالی کا پول کھول دیا۔ آن لائن گیمنگ ایپلی کیشنز  بھی لڑکیوں کو ورغلانے اور اہلخانہ سے بغاوت پر اکسانے کا اہم ہتھیار بن گئیں،کراچی سے فرار ہونے والی تینوں لڑکیوں نے پب جی پر دوستیاں کیں۔

کراچی سے فرار ہونے والی تینوں لڑکیوں نے   مبینہ طور پر آن لائن گیم پب جی پر لڑکوں سے دوستی کرنے کے بعد گھروں سے فرار کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی سے لاپتہ دعا زہرہ اور نمرہ کاظمی نے پنجاب میں نکاح کرلیا

جبران ناصر نے دعا زہرہ کیس کے قانونی پہلو بتا دیئے

 

دعا زہرہ کے حوالے سےانکشاف ہوا ہے کہ  وہ آن لائن گیم کے ذریعے لاہور کے رہائشی ظہیر احمد سے 3 سال سے رابطے میں تھی،لڑکے کے گھر والے شادی کیلیے تیار تھے،دعا کے گھر والے راضی نہ ہوئے ۔

کراچی کے علاقے ملیر سے لاپتہ ہونے والی  دعا زہرہ  کو پولیس نے پاکپتن سے تحویل میں لے لیا۔ گزشتہ روز کراچی پولیس نے لاہور پولیس کے ساتھ دعا  زہرہ کا نکاح نامہ شیئر کیا تھا جس کے بعد  لاہور پولیس نے  تحقیقات شروع  کیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق نکاح نامے پر درج  ایک گواہ اصغر  علی ہے جس کی رہائش حویلی لکھا کی بتائی گئی تھی،  پولیس نے اس سراغ کے ذریعے اوکاڑہ پولیس سے رابطہ کیا تو  اوکاڑہ پولیس نے حویلی لکھا سے اصغر علی کو حراست  میں لے لیا۔

دعا اور اسکا شوہرظہیراحمد پاکپتن میں موجود تھے

پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ اصغر علی سے تفتیش کی گئی تو اس نے بتایا کہ دعا اور اس کا شوہر ظہیر دونوں اس کے پاس یہاں آئے تھے اور اب یہاں سے جاکر پاکپتن میں موجود ہیں۔ اصغر علی کے بیان پر پولیس نے پاکپتن پر ایک  زمیندار کے گھر پر چھاپہ  مارا جہاں سے دعا اور اس کے شوہر ظہیر کو تحویل میں  لے لیا۔اوکاڑہ پولیس نے لڑکی کا ویڈیو بیان بھی لیا جس میں اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے گھر سے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق ظہیر پاکپتن میں جس زمیندار کے گھر دعا کو لے کر ٹھہرا تھا وہ اس کا دور کا چچا  ہے۔

دعا زہرہ نے والد اور کزن پر لاہور سے اغوا کی کوشش کا دعویٰ دائر کردیا

دریں اثنا دعا  زہرہ نے مقامی عدالت میں  اپنے والد کیخلاف ہراسانی  کا دعویٰ دائر کردیا۔دعا اور ظہیر کا نکاح 17 اپریل کو ہوا جب کہ پٹیشن 19 اپریل کو دائر کی گئی۔پٹیشن میں دعا زہرہ نے والد پر لاہور میں واقع گھر میں گھسنے کا الزام عائد کرتے ہوئے موقف اپنایا  کہ والد میرے کزن زین العابدین سے میری  زبردستی شادی کراناچاہتے تھے۔

دعا نے والد اور کزن پر اغوا کی کوشش  کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا ہےکہ 18 اپریل کو والد مہدی کاظمی اور کزن زین العابدین اچانک گھرمیں گھس آئے اور اس دوران  والد اور کزن  نے مجھ سے اور میرے خاوند سے گالم گلوچ کی اور ہمیں دھمکیاں دیں۔دعا کا  کہنا تھا کہ والد اور کزن نے مجھے میرےگھر سے اغوا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اہل محلہ کے جمع ہونے  پر دونوں کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

دعا نے مؤقف اپنایا  کہ میں نے اپنی پسند سے شادی کی ہے، اپنے خاوند کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھی اور خاوند کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں جب کہ باپ اور کزن  کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔مجسٹریٹ کی عدالت نے دعا زہرا کو والد کے خلاف شواہدپیش کرنے کے لیے 18 مئی کوبلالیا۔

3 سال قبل پب جی پر رابطہ ہوا، دعا کے گھر والے شادی پر راضی نہ تھے،ظہیر احمد

دریں اثنا  دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کا  کہنا ہےکہ اس کا دعا سے رابطہ پب جی گیم  کے ذریعے ہوا۔ظہیر احمد نے ایک بیان میں کہا کہ میں لاہور کا رہائشی ہوں، دعا اور میرا رابطہ پب جی گیم کے ذریعے ہوا اور پچھلے تین سال سے ہمارا رابطہ تھا۔ظہیر احمد نے کہا کہ دعا زہرا کراچی سے خود آئی ہے، دعا نے میرے گھر کے باہر آکر مجھے میسج کیا، وہ رینٹ کی گاڑی پر آئی تھی۔

ظہیر احمد  کاکہنا تھا کہ میرے گھر والے شادی پر آمادہ تھے، میرے گھر والے بھی چاہتے تھے کہ دعاکے گھر والے رضامند ہوں لیکن دعا کے گھر والوں نے شادی کیلئےمثبت جواب نہیں دیا ، اسی وجہ سے یہ خود اپنا گھر چھوڑ کر آ گئی۔ظہیر احمد نے مزید کہا کہ میں پڑھتا ہوں، ایف ایس سی کیا ہے اور  یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائی کیا ہے۔

18سال کی ہوں، گھر والے زبردستی کسی اورسے شادی کروانا چاہتے تھے، دعا کا وڈیو بیان

قبل ازیں گزشتہ رات گئے دعازہرہ کا وڈیو بیان سامنے آیا تھا جس میں دعا زہرہ  نے کہا تھاکہ میں اپنی مرضی سے اپنے گھرسے آئی  ہوں، میرے گھر والے زبردستی میری شادی کسی اور سے کرانا چاہ رہے تھے، وہ مجھے مارتے تھے، جس پر میں راضی نہیں ہوئی، اپنی مرضی سے آئی ہوں کسی نے اغوا نہیں کیا جب کہ گھر سے کوئی قیمتی سامان نہیں لائی، گھر والے میری عمر غلط بتارہے ہیں، میری عمر 18 سال ہے، اپنی مرضی سے ظہیر احمد سے کورٹ میرج کی ہے، کوئی زبردستی نہیں ہوئی لہٰذا مجھے تنگ نہ کیاجائے، اپنے گھر میں شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں۔

شادی کو 18سال نہیں ہوئے تو بیٹی کیسے 18 سال کی ہوگئی؟مہدی کاظمی

دوسری جانب دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے بیٹی کو کراچی لانے کا مطالبہ  کرتے ہوئے کہا کہ بچی کو اگر میرے پاس نہیں تو چائلڈ پروٹیکشن کےحوالے کیاجائے، مجھے ان پر پورا اعتماد ہے۔ کراچی میں آج  پریس کانفرنس کرتے ہوئے والدین کا کہنا تھا کہ  ہوسکتا ہے ان  کی بیٹی کی ویڈیوز بناکر اسے بلیک میل کیا گیا ہو کیونکہ دعا ویڈیو میں خوفزدہ نظر آرہی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ میری شادی 2005 میں ہوئی، شادی کو 18 سال نہیں ہوئے تو بیٹی کیسے 18 سال کی ہوگئی؟ دعا کی تاریخ پیدائش 27اپریل 2008 ہے۔ مہدی کاظمی دعا کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ، ب فارم اور پاسپورٹ بھی پیش کردیا۔

انہوں نے کہا کہ مکمل تفتیش کی جائے تاکہ معلوم ہوکہ اصل معاملہ کیا ہے، میری بیٹی جھوٹ بول رہی ہے یا اس سے جھوٹ بلوایا جارہا ہے، گیم کےاندرمیسجنگ سسٹم سے لڑکے نے میری بیٹی کوٹریپ کیا۔

اس موقع پر دعا زہرہ کی والدہ نے کہا کہ دعا کا جس نے نکاح پڑھوایا ، نکاح نامے پر اس کی مہر نہیں، میں وکیل کی بیٹی ہوں اتنا قانون میں بھی جانتی ہوں،  ہوسکتا ہےمیری بیٹی کی ویڈیوز بناکر اسے بلیک میل کیا گیا ہو، میری بیٹی ویڈیو میں خوف زدہ نظر آرہی ہے۔

نمرہ کاظمی نے بھی آن لائن گیم پر دوست بننے والے ڈی جی خان کے نجیب شاہ رخ سے شادی کرلی

دریں اثنا کراچی کے علاقے سعود آباد سے فرار ہو کر ڈیرہ غازی خان میں  وڈیوبیان  بھی گزشتہ روز سامنے آگیا۔وڈیو بیان نمرہ کے وکیل کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس  میں نمرہ کا کہنا ہے کہ میرے بابا کا نام ندیم کاظمی ہیں، میں 17 اپریل کو نکلی اور 18 اپریل کو نکاح کیا، میں اپنی مرضی سے آئی ہوں،کسی نے اغوا نہیں کیا۔

نمرہ کا کہنا ہےکہ میں بہت خوش ہوں، میڈیا سے میری ساری ویڈیوز ہٹائی جائے۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا پر نمرہ کے نکاح کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ نکاح خواں کو اپنی عمر 18 سال بتارہی ہے جب کہ ایک اور ویڈیو میں اسے اپنے شوہر کے ساتھ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

نمرہ کی جانب سے ڈی جی خان کی مقامی عدالت میں حلف نامہ بھی جمع کرایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ اس کے والد اس کی شادی کسی بڑی عمر کے بزرگ سے کروا رہے تھے تاہم وہ نجیب شاہ رخ سے شادی کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے یہ اقدام اٹھایا۔حلف نامے میں مزید کہا گیا کہ انہیں پولیس کی جانب سے تنگ کیا جارہا ہے، پولیس کو انہیں تنگ کرنے سے روکا جائے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہےکہ نمرہ کی نجیب شاہ رخ سے دوستی آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی اور وہ ایک ماہ سے اس سے رابطے میں تھی۔خیال رہے کہ نمرہ کاظمی 20 اپریل کو سعود آباد ایس ون ایریا سے لاپتہ ہوئی تھی۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو ڈیرہ غازی خان سے ایک نکاح نامہ ملا ہے جس میں نمرہ اور نجیب شاہ رخ کے نام ہیں، نکاح نامے میں نمرہ کی عمر 18 سال بتائی گئی ہے جب کہ ایف آئی آر میں اس کی عمر 18 سے کم بتائی گئی تھی۔دوسری جانب ب فارم کے مطابق نمرہ کاظمی کی تاریخ پیدائش 6 جنوری2008 ہے اور اس کی عمر 14 سال ہے، تاہم  نکاح نامے میں نمرہ کاظمی کی عمر18 سال لکھی گئی ہے۔

سولجر بازار کی دینار نے وہاڑی کے اسد عباس سے شادی کرلی

علاوہ ازیں کراچی کے علاقے سولجر بازار سے لاپتہ ہونے والی تیسری لڑکی 25سالہ دینار کی جانب سے پسند کی شادی کرنے  کا انکشاف ہوا ہے۔دینا ر کا نکاح نامہ بھی سامنے آگیا ہے۔

 

دینار نے وہاڑی میں اسد عباس نامی لڑکے سے شادی کرلی ہے جبکہ  پولیس کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ لڑکی گھر سے اپنی مرضی سے گئی ہے۔دوسری جانب  لڑکی کے بھائی نے سولجر بازار تھانے میں بہن کی گمشدگی کی درخواست بھی واپس لے لی ،پولیس کے مطابق دینار 22 اپریل کو اپنے گھر سے مبینہ طور پر لاپتہ ہوئی تھی۔

متعلقہ تحاریر