سعودی حکام نے مسجد نبویﷺ کے واقعے میں ملوث پانچ پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا

مدینہ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ: "مشتبہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں مجاز حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔"

سعودی حکام نے پاکستان کی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر برائے انسداد منشیات شاہ زین بگٹی کی مسجد نبویﷺ میں توہین کرنے پر پانچ پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

سعودی حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 5 پاکستانیوں کو مسجد نبویﷺ کے صحن میں ایک خاتون اور اس کے ساتھیوں کی توہین اور بدسلوکی کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پہلی مرتبہ دعوت افطارکا اہتمام

ترکی نے پاکستانیوں کے لئے عارضی رہائشی اجازت نامے منسوخ کردیئے

مدینہ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ: "مشتبہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں مجاز حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔”

ان کا مزید کہنا ہے کہ "گرفتار افراد کے عمل سے تقدس والی جگہ کا احترام مجروع ہوا جبکہ زائرین اور عبادت گزاروں کی بھی متاثر ہوئی۔”

ترجمان نے کہا کہ انہیں مسجد نبویﷺ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ جمعہ کو یہ واقعہ پیش آنے کے بعد سے یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں۔

سعودی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ان کے خلاف مزید کیا کارروائی کی جائے گی۔ تاہم، یہ اطلاعات ہیں کہ سعودی حکام نے پی ٹی آئی کے حامیوں پر 60,000 ریال جرمانہ، پانچ ماہ قید اور مملکت میں تاحیات پابندی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ایسی کوئی رپورٹ ابھی تک میڈیا میں نہیں آئی۔

سخت قانونی کارروائی؟

ادھر پی ٹی آئی کے رکن صاحبزادے جہانگیر اور تاجر انیل مسرت نے اپنی گرفتاری کی خبروں کی تردید کی ے، کیونکہ جب یہ واقعہ پیش آیا وہ بھی عمرہ کی ادائیگی کے لیے وہاں موجود تھے۔

دوسری وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے جمعہ کو مسجد نبوی میں پیش آنے والے اہانت آمیز واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سعودی عرب سے درخواست کرے گی کہ مسجد نبویﷺ کے احاطے میں ناشائستہ زبان استعمال کرنے اور وزراء کے ساتھ بدتمیزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے محکمہ قانون سے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے مشورہ طلب کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت قانون سے بھی مدد کرنے کو کہا گیا تھا کہ آیا یہاں پاکستان میں مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسجد نبویﷺ کے تقدس کو پامال کرنا ’’شرمناک فعل‘‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات مدینہ میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا اور ہمارے تشخص کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔

متعلقہ تحاریر