روس سے خام تیل کی خریداری سے متعلق بات چیت آخری مراحل میں تھی، حماد اظہر
پی ٹی آئی کے رہنما نے وفاقی وزیر خرم دستگیر خان کو دیئے گئے جواب کی تصدیق کے لیے خط بھی ٹوئٹر پر جاری کیا ہے۔
سابق وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت روس کے ساتھ خام تیل کی خریداری سے متعلق بات چیت کے آخری مراحلے میں تھے۔
اس بات کا انکشاف انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ "روس کے ساتھ خام تیل کی خریداری سے متعلق رابطے آخری مراحل میں تھے ، بہت ممکن تھا کہ اپریل میں پہلا کارگو خرید لیا جاتا۔”
یہ بھی پڑھیے
غیرملکی سازش نے نہیں تمہارے منتخب اراکین نے تمہیں نکالا، مریم نواز
میاں صاحب سے بات ہوگئی، اصلاحات ہوتے ہی الیکشن کروائینگے، آصف زرداری
حماد اظہر نے اس بات کا جواب نئے وفاقی وزیر برائے توانائی انجینئر خرم دستگیر خان کے اعتراض پر دیا ہے ، جنہوں نے کہا تھا کہ ” تیل اور گیس کی رعایتی خریداری پر روس کے ساتھ رابطے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ 27 آؤٹ آف آرڈر پاور پلانٹس کی کہانی کی طرح یہ بھی جھوٹ ہے۔’
New power minister says there is no evidence of communication with Russia over purchase of discounted oil & Gas. Like the story of 27 out of order power plants, this also is a lie. IK as PM chaired 2 meetings on the subject & we were aiming for purchasing first cargoes in April. pic.twitter.com/JTzDEltAtb
— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) May 10, 2022
حماد اظہر نے خرم دستگیر کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم اس موضوع پر 2 اجلاسوں کی صدارت کی اور ہمارا مقصد اپریل میں پہلا کارگو خریدنے کا تھا۔”
سابق وفاقی وزیر برائے توانائی حماد اظہر نے مزید لکھا ہے کہ "ماسکو میں ہمارے سفیر کو کام سونپا گیا تھا اور وہ اس مسئلے کے حوالے سے روسی حکام کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں تھے۔”
حماد اظہر کا کہنا ہے کہ "پی ایس او نے لین دین کے دو ڈھانچے تجویز کیے تھے۔ امپورٹڈ (درآمد شدہ) حکومت کو اب بتانے کی ضرورت ہے کہ یہ مذاکرات کیوں بند کیے گئے؟”
حماد اظہر نے اپنی بات کی تصدیق کے لیے وہ خط بھی شیئر کیا ہے جس کے تحت ان کی حکومت خام تیل کی خریداری کے لیے روس کی حکومت کے ساتھ رابطے میں تھی۔









