وزیراعلیٰ کے انتخابات والے دن جو کچھ اسمبلی میں ہوا افسوسناک تھا، لاہور ہائیکورٹ
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی میں لوٹے لانا یہ شرمناک تھا۔ اس معاشرے میں رہتے ہیں ٹی وی پر سب دیکھا کہ اس دن کیا ہوا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب کے موقع ہنگامہ آرائی اور جھگڑے پر افسوس کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ تمام دنیا کی اسمبلیوں میں جھگڑے ہوتے ہیں لیکن جو کچھ ڈپٹی اسپیکر کیساتھ ہوا وہ افسوس ناک تھا۔
تحریک انصاف اور قاف لیگ کے وکلا نے حمزہ شہباز کے انتخاب کیخلاف درخواستوں پر اپنے دلائل مکمل کر لیے.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی حمزہ شہباز کے انتخاب کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی تو مسلم لیگ قاف کے وکیل عامر سعید راں نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے اسمبلی میں پولیس داخل کی اور پولیس کی مداخلت کی وجہ کئی ارکان ووٹ نہیں ڈال سکے.
یہ بھی پڑھیے
لاہور ہائی کورٹ نے ڈھائی ماہ پر مشتمل حل شدہ کیسز کی تفصیلات جاری کردیں
ای سی پی نے پی ٹی آئی پنجاب کے منحرف ارکان کی خالی نشستوں پر انتخابی شیڈول دے دیا
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی میں جو کچھ ہوا سب نے دیکھا. بظاہر سیکرٹری اسمبلی نے اس موقع پر اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔
عامر سعید راں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر اپوزیشن سے ملے ہوئے تھے.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ سوال کا جواب دینے کی بجائے معاملے کو دوسری جانب لے جا رہے ہیں. اسمبلی کے اندر لوگوں کو داخل ہونے سے روکنا سیکرٹری اسمبلی کا کام تھا.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ اسمبلی میں لوٹے لانا یہ شرمناک تھا۔ اس معاشرے میں رہتے ہیں ٹی وی پر سب دیکھا کہ اس دن کیا ہوا۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سیکرٹری اسمبلی اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ماتحت ہے سپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سیکرٹری کے ماتحت نہیں ۔
اس سے پہلے تحریک انصاف کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں آئین کے آرٹیکل 130 کے مطابق وزیر اعلیٰ کے پاس عددی اکثریت ہونی چاہیے۔
بیرسٹر علی ظفر کے مطابق اب بظاہر کسی کے پاس بھی عددی اکثریت موجود نہیں ہے. بیرسٹر علی ظفر نے نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ کی تشریح سے پہلے بھی 63 اے موجود تھا اور نافذالعمل تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا کہ منحرف اراکین کا ووٹ شمار نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کے وکیل نے نکتہ اٹھایا کہ ایک سیاسی پارٹی کے اراکین اسمبلی دوسری پارٹی کو جوائن کر رہے ہیں سپریم کورٹ نے یہ روک دیا ہے اور اس کا اطلاق ماضی سے ہوگا۔
بیرسٹر علی ظفر نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے سامنے یہ تاریخی معاملہ ہے تمام ملک اس عدالت کی طرف دیکھ رہا ہے۔
عدالت کے روبرو صفدر شاہین پیرزادہ اور عامر سعید راں نے بھی دلائل مکمل کرلیے. ایک درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے دلائل شروع کر دیئے ہیں. درخواستوں پر مزید سماعت 6 جون کو ہوگی۔









