ہفتہ وار مہنگائی 23.98 فیصد کو چھو سکتی ہے، سروے رپورٹ

سروے میں بتایا گیا کہ گندم کا آٹا، چاول، ٹماٹر، پیاز، دالیں، چکن، چینی، اور لال مرچ سمیت پچیس اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 60 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ، قیمتوں میں اضافے کے بعد ہفتہ وار افراط زر میں 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ، جو گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے درمیانے اور کم آمدنی والے افراد کو مزید دباؤ میں لےلیا ہے جو پہلے ہی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بڑے پیمانے پر اضافے سے شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کینڈی لینڈ کے منافع نے مفتاح اسماعیل کو جھوٹا ثابت کردیا

حکومت سندھ نے مویشی منڈی میں پارکنگ کیلئے 30 ایکٹر رقبہ مختص کردیا

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (PBS) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 9 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران افراط زر میں 2.67 فیصد اضافہ ریکارڈ کی گیا جو 23.98 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ متوقع تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کی افراط زر اب توقع سے زیادہ بڑھ جائے گی۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل (17.18 فیصد)، پیٹرول (16.61 فیصد)، آلو (7.01 فیصد)، ٹماٹر (6.15 فیصد)، سبزی گھی 1 کلو (3.62 فیصد)، انڈے (3.30 فیصد)، تازہ دودھ کی قیمتوں میں  (2.51 فیصد) اضافہ دیکھا گیا۔

دال چنا (2.31 فیصد)، سبزی اور گھی 2.5 کلو ، دہی (2.02 فیصد) ، پیاز (1.96 فیصد)، دال (1.66 فیصد) اور کوکنگ آئل 5 لیٹر (1.45 فیصد) اضافہ دیکھا گیا۔ ان تبدیلیوں سے افراط زر میں مجموعی طور پر 2.99 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے “پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 60 روپے کے اضافے کے بعد ایس پی آئی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور توقع بھی یہی کی جارہی تھی ، اب جون کے مہینے میں بھی سی پی آئی بھی زیادہ رہے گا۔ ممکنہ طور پر 17 یا 18 فیصد تک افراط زر جاسکتا ہے۔

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 18 اکتوبر 2018 کو ختم ہونے والے ہفتے میں افراط زر میں 2.89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا جائزہ لینے کے لیے ہفتہ وار ایس پی آئی کی گنتی کی جاتی ہے۔ یہ جائزہ 51 ضروری اشیاء پر مشتمل ہوتا ہے اور ملک کے 17 شہروں کی 50 بڑی مارکیٹوں سے قیمتیں اکٹھی کی جاتی ہیں۔

"اس انڈیکس کی نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے ذریعے باقاعدگی سے نگرانی کی جاتی ہے، اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2021-22 کے دوران ایس پی آئی (افراط زر) کی صورتحال غیر مستحکم رہی۔”

ہفتے کے دوران 33 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ، 5 کی قیمتوں میں کمی اور 13 کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

مالی سال 2022 کے جولائی تا اپریل کے مہینے کے دوران افراط زر میں سالانہ بنیادوں پر 16.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جو گزشتہ مال سال کی اسی مدت میں 12.9 فیصد تھا۔

سروے میں بتایا گیا کہ گندم کا آٹا، چاول، ٹماٹر، پیاز، دالیں، چکن، چینی، اور لال مرچ سمیت پچیس اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ تحاریر