آئی ایم ایف ہماری نہیں سن رہا، مریم نواز نے اپنی معاشی ناکامیوں کا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا

معاشی ماہرین کا کہنا ہے مفتاح اسماعیل صاحب جتنی مہنگائی کرسکتے تھے کردی ، جتنے ٹیکسز لگا سکتے لگا دیئے ، مریم نواز بتا دیں کہ پھر آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل فائنل کیوں نہیں ہورہی۔

پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کی نائب صدر مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے پاس پاکستان کو سری لنکا میں تبدیل کرنے کا مکمل منصوبہ تھا اور اس کے لیے انہوں نے جان بوجھ کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے مفتاح اسماعیل نے تو آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدرآمد کرتے ہوئے غریبوں پر مہنگائی کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں تو پھر معاہدہ کیوں نہیں ہو رہا ہے۔

مریم نواز کا ضمنی انتخاب سے قبل حلقہ پی پی 167 میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے شہباز شریف حکومت کو بتایا ہے کہ وہ عمران خان کی وعدہ خلافیوں کی وجہ سے پاکستان میں اعتماد نہیں کرسکتے۔

یہ بھی پڑھیے

پریڈ گراؤنڈ جلسہ ، عمران خان نے نیوٹرل کو آڑے ہاتھوں لے لیا

کیا اس مشکل وقت میں شاہ محمود قریشی کا عمران خان سے گلا بنتا ہے؟

عمران خان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا سابق وزیراعظم نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یوٹرن لیا ، ان شرائط سے روگردانی کی جن پر آئی ایم ایف سے قرضے کی ڈیل ہوئی تھی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ان شرائط پر کیا تھا کہ ان کی حکومت ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی ، مگر انہوں نے اضافہ کرنے کے بجائے کمی کردی جس سے خزانہ مزید خالی ہو گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا تھا فتنہ خان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا جس کی وجہ سے موجودہ حکومت کو دل پر پتھر رکھ کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ’’نواز شریف اور شہباز شریف ملک کو بحران سے نکالیں گے‘‘، انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے بعد حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے گی۔

مریم نواز کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا ہے مفتاح اسماعیل صاحب جتنی مہنگائی کرسکتے تھے انہوں نے کردی ، جتنے ٹیکسز آئی ایم ایف نے لگانے کو کہے تھے وہ بتدریج لگا دیے گئے تو پھر معاہدہ مکمل ہونے میں کون سی رکاوٹ درپیش ہے۔ رانا ثناء اللہ نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف نے تگنی کا ناچ نچوا دیا ہے تو بھائی آپ کو کون کہتا ہے کہ تگنی کا ناچ ناچو ، جب آئی ایم ایف آپ کے کیے گئے تمام اقدامات کے باوجود معاہدہ نہیں کررہا تو ساری قیمتوں کو رول  بیک کردو اور عوام کو ریلیف فراہم کرو ۔ تقریروں سے عوام کو کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔

معاشی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ کی تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل سے 103 ڈالر فی بیرل پر آگئی ہیں ، مگر آپ نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے 30 جون کی رات کو ایندھی کی قیمتوں میں 14 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ، عمران خان کی وعدہ خلافیوں کو آئی ایم ایف کی شرائط سے نہ جوڑیں ، کیونکہ آئی ایم ایف کی شرائط قبول نہ کرنے کے باوجود پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی جبکہ آج پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان میں اپریل کے آغاز پر نئی حکومت کا قیام عمل میں آیا تھا ، نئی حکومت کو تقریباً تین ماہ گزر چکے ہیں ، تمام شرائط پر عمل درآمد کے باوجود حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ پروگرام بحال کرانے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکی۔

متعلقہ تحاریر