سابق جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے پر قاتلانہ حملے میں ہلاک
شنزو آبے اتوار کو طے شدہ ایوان بالا کے انتخابات کے سلسلے میں نارا میں انتخابی مہم کے دوران خطاب کررہے تھے کہ 40 سالہ شخص نے انہیں عقب سے گولیوں کا نشانہ بنایا،مقامی میڈیا

جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے ۔ ٹوکیو کے سابق گورنر یوئچی ماسوزی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ 67 سالہ سابق وزیر اعظم حملے میں زخمی ہونے کے بعد دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔
مقامی میڈیا کے مطابق شنزو آبے اتوار کو طے شدہ ایوان بالا کے انتخابات کے سلسلے میں نارا میں انتخابی مہم کے دوران خطاب کررہے تھے کہ 40 سالہ شخص نے انہیں عقب سے گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے بعد بظاہر ان کی موت کا شبہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پارٹی گیٹ اسکینڈل برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کو لے ڈوبا
جاسوسی کا الزام ، برطانوی سفیر سمیت کئی غیر ملکی سفارتکار گرفتار، ایرانی میڈیا
مقامی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے بعد شنزو آبے زمین پر گرگئے اور ان کی گردن سے خون بہتا ہوا دیکھا گیا ہے جس کے بعد جائے وقوعہ پر موجود افراد نے کارڈیک مساج کے ذریعے ان کی سانسیں بحال کرنے کی کوشش کی۔
قومی نشریاتی ادارے این ایچ کے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک 40 سالہ شخص کو قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتارکیا گیا ہےجس کے قبضے سے ایک بندوق بھی برآمد ہوئی ہے۔

مقامی خبررساں اداروں کے مبابق شنزوآبے کو اسپتال لے جایا گیا اور وہ کارڈو ریسپائریٹری اریسٹ (جاپان میں استعمال ہونے والی ایک اصطلاح جو کسی اہم علامات کی نشاندہی کرتی ہے، اور عام طور پر موت کی رسمی تصدیق شمار ہوتی ہے)میں مبتلا دکھائی دیے ۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق شنزو آبےکو بظاہرشارٹ گن کے ذریعے عقب سے 2 گولیاں ماری گئی ہیں۔حکومت نے کہا کہ اس واقعے کے تناظر میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے اور توقع ہے کہ اعلیٰ حکومتی ترجمان جلد ہی بات کریں گے۔
واضح رہے کہ شنزو آبے کو سب سے طویل عرصے تک جاپان کا وزیراعظم رہنے کا اعزاز حاصل ہے ۔وہ پہلی مرتبہ 2006 میں ایک سال اور پھر 2012 تا 2020 اپنے عہدے پر فائز رہے بعد ازاں آنتوں کی کمزور حالت السرٹیو کولائٹس کی وجہ سے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا ۔









