’اغوا، کم عمری کی شادی‘: سندھ میں دعا زہرہ جیسا ایک اور کیس سامنے آگیا

صوبائی وزیر سندھ شہلا رضا نے لیگل ایڈ پلس کے چیئرمین ایڈووکیٹ الطاف کھوسو کے توسط سے 14 سالہ فاطمہ بختاور کا کیس جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کیا ہے۔

کراچی: محکمہ ترقی نسواں سندھ کی صوبائی وزیر شہلا رضا نے کراچی سے اغوا ہونے والی لڑکی بختاور فاطمہ کی بازیابی کا کیس سینئر قانون دان اور چیئرمین لیگل ایڈ الطاف کھوسو کے سپرد کردیا ہے۔

ایڈووکیٹ الطاف کھوسو کی جانب سے عدالت میں دلائل کے بعد ٹرائل کورٹ نے مغوی 14 سالہ بختاور فاطمہ کے حوالے سے تھانہ کلفٹن کی تفتیشی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کیس کی دوبارہ تفتیش کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیے

دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد پراسرار قوتیں حرکت میں

دعا زہرہ کے الزامات پر مہدی علی کاظمی کے بڑے بھائی کا بھرپور انداز میں دفاع

سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ نمبر 5 کراچی جنوبی مظہر علی بختاور نے نادرا کے بی فارم اور پیدائشی سرٹیفکیٹ اور فاطمہ کی عمر سے متعلق دیگر دستاویزات کی تصدیق کا حکم جاری کیا ہے۔

والدین کے مطابق 14 سالہ بختاور فاطمہ کو 16 مارچ 2022 کو شہزاد علی خاصخیلی ، فریدہ خاصخیلی ، ایاز خاصخیلی نے اغوا کیا تھا جب کہ سہولت کاروں میں محمد افضل ، اسلم ولد پیارو اور علی نواز شامل ہیں۔

بختاور فاطمہ کے اغواء کے مقدمے میں پلس لیگل ایڈ کے چیئرمین اور ایڈووکیٹ الطاف کھوسونے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دعا زہرہ کیس میں سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر حکومت کی جانب سے سابق آئی جی اور دیگر پولیس افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

الطاف کھوسو نے کہا کہ بختاور فاطمہ کی عمر 14 سال اور چند ماہ ہے اور آئی او کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں بہت سی غلطیاں اور خامیاں ہیں۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے کلاس سے اخراج کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

دوسری جانب ٹرائل کورٹ میں بیان دیتے ہوئے انویسٹی گیٹیو آفیسر کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں بختاور فاطمہ کی عمر 14 سال بتائی گئی ہے جب کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے حوالے سے سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ پر عمل درآمد نہ ہونے کا مطلب ہے کہ مناسب تفتیش نہیں کی گئی۔

عمر کے تعین کے سلسلے میں عدالت نے نادرا کے برتھ سرٹیفکیٹ کی تصدیق کے ساتھ نکاح نامہ اور مرضی کی تصدیق کا بھی حکم دیا ہے۔

عدالت نے آئی او کو 10 دن کے اندر اندر ٹرائل کورٹ کراچی ساؤتھ 7 کے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ کو تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

الطاف کوسو نے عدالت سے استدعا کی کہ بختاور فاطمہ کو فوری طور پر والدین کے سپرد کیا جائے اور اغوا کار شہزاد علی اور دیگر سہولت کار جیل بھیجا جائے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف کھوسو کا کہنا تھا کہ بختاور فاطمہ کے ساتھ دعا زہرہ،  نمرہ کاظمی اور اس طرح کے کئی دیگر کیسز ان کی صحت یابی اور والدین کے پاس واپسی تک ہماری تنظیم "لیگل ایڈ پلس” مختلف عدالتوں میں لڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں عبدالستار ایدھی ، ایدھی انتظامیہ اور سندھ حکومت بالخصوص خواتین کی ترقی کی وزیر شیلا رضا دیگر سماجی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں جو بچوں اور خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔

متعلقہ تحاریر