فیصلے سے قبل پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ کو دباؤ میں لینا تھا، بیرسٹر سیف

وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا کے معاون خصوصی کا کہنا ہے مولانا فضل الرحمن کا اداروں سے بغاوت کا بیان مضائقہ خیز اور افسوسناک ہے۔

بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے پی ڈی ایم نے جو پریس کانفرنس کی اس میں عمران خان کو نشانہ بنایا گیا ، کسی جماعت کا کوئی نظریہ رہا نہیں، سب کو ایک پارٹی بنالینی چاہئے، آج کی پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ پر دباو  ڈالنا تھا، سپریم پر لفظی گولا باری کی گئی۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کا پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ن لیگ کا پرانا وطیرہ ہے جب بھی عدالتی فیصلہ آنا ہو وہ عدالت کو دباؤ میں لانے کے لئے حملے شروع کر دیتے ہیں۔ آج بھی پریس کانفرنس کا مقصد عدلیہ پر دباؤ ڈالنا اور سپریم کورٹ پر لفظی گولہ باری کرنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فل کورٹ بینچ نہیں بنے گا، تین رکنی عدالتی بینچ ہی ڈپٹی اسپیکر رولنگ کا فیصلہ دے گا

آرمی چیف کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس میں سیکیورٹی امور پر تبادلہ خیال

انکا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے سپریم کورٹ کا نام لے کر سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ پریس کانفرنس نہیں تھی بلکہ سیاست میں فسطائیت کی نئی شکل کی تقریب رونمائی تھی۔ آج ان کو نئی پارٹی کا اعلان کر لینا چاہیے تھا جس کا نام پیپلز جمعیت لیگ وغیرہ اور انتخابی نشان لوٹا رکھنا چاہیے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا اداروں سے بغاوت کا بیان مضائقہ خیز اور افسوسناک ہے۔

مریم نواز  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ مریم نواز 3 مہینوں کے لئے خاموش ہوئی تھی مگر اب دوبارہ اداروں پر حملے شروع کر دیے۔ اگر مریم نواز کو خوش فہمی ہے کہ وہ اپنی لفظی گولا باری سے اداروں کو متاثر کریں گے تو یہ انکی غلط فہمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت لگنے سے پہلے پی ڈی ایم کی پریس کانفرنس عدلیہ کے فیصلے کو اثر انداز کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

متعلقہ تحاریر