بلاول بھٹو کے علاقے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس پھیلنے لگا

طبی ماہرین کا کہنا ہے سندھ حکومت نے ایچ آئی وی کو کنٹرول کرنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کو تعینات نہ کیا تو مستقبل قریب میں یہ مرض دوسرے علاقوں تک پھیل جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حلقہ انتخاب لاڑکانہ کی تحصیل رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس ایک مرتبہ پھر سے بے قابو ہو گیا ہے ، تیزی سے پھیلتے ہوئے ایچ آئی وی وائرس نے سندھ حکومت کے صحت کے حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں کی قلعی کھول رکھ دی ہے۔

رتوڈیرو اور اس کی گردونواح میں ایچ آئی وی وائرس پر قابو پانا مشکل تر ہوتا جارہا ہے ، گزشتہ روز سمیر علی ولد عطا محمد نامی بچہ ایچ آئی وی وائرس سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گیا۔

یہ بھی پڑھیے

لاڑکانہ کے چانڈکا اسپتال کا عملہ مریضوں کے بیڈ پر آرام کرنے لگے

دریائے سندھ میں سکھر بیراج سے نامعلوم لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری

رپورٹ کے مطابق رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس نے مزید ایک بچے کی جان لے لی، یونین کونسل لاشاری کے نواحی گاؤں سجن ہکڑو کے رہائشی عطا محمد تنیو کا بیٹا سمیر علی ایچ آئی وی وائرس سے جنگ ہار گیا۔

تقریباً ساڑھے تین لاکھ کی آبادی والے رتوڈیرو میں اب تک 3000 کے قریب متاثرہ افراد رجسٹرڈ ہوچکے ہیں اور اب تک تقریباً 30 ہزار افراد کی بلڈ اسکریننگ ممکن ہو سکی ہے۔

اب تک رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی وائرس کے متاثرہ بچوں کے ہلاکتوں کی تعداد 64 ہوگئی ہے۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے رتوڈیرو میں ایچ آئی وی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے مگر سندھ حکومت کے کرتا دھرتاؤں کی جانب سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا جارہا ، بنیادی مراکز صحت میں بنیادی طبی سہولتیں میسر نہیں ہیں ، لوگوں کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ پرائیویٹ اسپتالوں سے علاج کروا سکیں اور ڈاکٹروں کی بڑی بڑی فیسیں ادا کرسکیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے ہم حیران ہیں کہ دو ماہ سے لے کر 12 سال کے بچوں میں ایچ آئی وی تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں تک ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہاں پر موجود طبی عملہ ویل ٹرینڈ نہیں ہے ، ایک سرنج کئی کئی مریضوں کو لگا دی جاتی ہے جو مرض کے پھیلنے کی بنیادی وجہ ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے سندھ حکومت کو اس جانب جتنی جلدی ممکن ہو دھیان دینا ہوگا ورنہ مستقبل قریب میں اس کے خطرناک نتائج نکل سکتےہیں اور یہ مرض دیگر علاقوں میں تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

متعلقہ تحاریر