اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا
ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک امان کے فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس شہباز گل کو اپنے ساتھ لے گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے جس کے بعد پولیس انہیں ضلع کچہری سے لے کر روانہ ہو گئی۔
اس سے قبل غداری پر اکسانے کے مقدمے میں سیشن کورٹ کے جج ملک امان نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے 48 گھنٹے کے ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ اور اب عدالت نے اپنا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے دو دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پنجاب ڈوب گیا مگر مونس الہیٰ کو پیپسی کے اشتہار پر رومن اردو لکھنے کا دکھ ستاتا رہا
غریدہ فاروقی، مشبر لقمان، اور وقار ستی کو ایک جیسے ٹوئٹ کرنے پر کڑی تنقید کاسامنا
ڈیوٹی مجسٹریٹ کے حکم پر رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کو آج اسپتال سے دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
شہباز گل نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے پانچ دن سے انہیں کپڑے بھی نہیں دیئے گئے ہیں ، انہیں نہانے بھی نہیں دیا جارہا جبکہ کھانا بھی زبردستی کھلایا جاتا ہے۔
بیان دیتے ہوئے شہباز گل کا کہنا تھا آج عدالت لانے سے قبل زبردستی ان کی شیو کی گئی۔
عدالت نے پراسیکیوٹر سے پوچھا آپ کو مزید ریمانڈ کیوں چاہیے، جس پر ان کا کہنا تھا ہمیں مزید تحقیقات کرنی ہیں اور دیکھنا ہے کہ شہباز گل نے جو بیان دیا تھا وہ کس کے کہنے پر دیا تھا ، اس حوالے سے کچھ تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا شہباز گل نے لینڈ لائن سے کال کی اور موبائل سے ڈیٹا پڑھ کر بیان دیا تھا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک امان نے 24 اگست تک کے لیے شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔
دوران سماعت شہباز گل کے وکلاء بابر اعوان اور فیصل چوہدری نے بھی جسمانی ریمانڈ کے خلاف دلائل دیئے۔









