صدر مملکت نے سپریم کورٹ میں ریکوڈک ریفرنس دائر کردیا
ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے سے متعلق رائے مانگی گئی ہے۔

صدرمملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر سپریم کورٹ میں ریکوڈک ریفرنس دائرکردیا۔
ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے سے متعلق رائے مانگی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ریکوڈک ذخائر، پاکستان اور بیرک کے مابین طویل المدتی معاہدہ طے پاگیا
ریکوڈک کی ترقی، وزیراعظم کا بلوچستان کے لیے بڑا اعلان
وفاقی کابینہ نے 30 ستمبر کو وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق ریفرنس سپریم کورٹ بھیجنے کی منظوری دی تھی۔ جس کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کی سفارش پر صدرمملکت نے ریفرنس سپریم کورٹ کو ارسال کیا ہے۔
ریفرنس میں عدالت عظمیٰ سے ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے کی خواہشمند غیرملکی کمپنی کے ساتھ معاہدے سے متعلق رائے طلب کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان اور کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے درمیان رواں سال مارچ میں معاہدے پر دستخظ ہوئے تھے۔ اس موقع پر بیرک گولڈ کے سربراہ مارک برسٹو نے کہا کہ اگر سب کچھ منصوبے کے تحت جاری رہا تو ریکوڈک سے پانچ سے چھ سال میں پیداوار شروع ہوگی۔
نئے معاہدے کے تحت منصوبے کا پچاس فیصد حصہ کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کا ہوگا جبکہ بقیہ پچاس فیصد مساوی طور پر وفاقی حکومت اور بلوچستان کے درمیان تقسیم ہوں گے۔
PM @ImranKhanPTI🇵🇰 witnessed the signing ceremony b/w @GovtofPakistan, @dpr_gob & Barrick Gold Co. of 🇨🇦 after successfully resolving the longstanding dispute w/ Tethyan Copper Company concerning the dev of copper & gold mines in Chagai, popularly known as the #RekoDiq dispute. pic.twitter.com/l9QWQOaP34
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) March 20, 2022
اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ اس نئے منصوبے سے قریب 11 ارب ڈالرز کے جرمانے کی تلافی، بلوچستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور روزگار کے آٹھ ہزار نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اس وقت کے وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ کئی حوالوں سے پاکستان کے لیے ’بیل آﺅٹ‘ یعنی مدد ہے۔ ان کے مطابق اس معاہدے کی وجہ سے جرمانے کی اس رقم کی ادائیگی نہیں کرنی پڑے گی جو کہ بین الاقوامی ثالثی فورم ایکسڈ سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا۔
مزمل اسلم نے کہا تھا کہ پاکستان کسی طرح مالی لحاظ سے اس خطیر رقم کی ادائیگی کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ اگر جرمانے کی رقم کی ادائیگی نہ کی جاتی تو پاکستان کے بیرونی ممالک میں جو اثاثے تھے ان کو تحویل میں لے کر ان کی نیلامی کی جاتی اور وہ رقم ان کمپنیوں کو دی جاتی جو کہ ٹھیتیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) میں شراکت دار تھے۔









