مقتول ارشد شریف کی والدہ کا سپریم کورٹ کے نام ایک اور خط

مقتول اینکر پرسن کی والدہ نے چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ ان کے بیٹے کے کیس کو سیاسی منافقت اور بددیانتی سے بچایا جائے۔

مقتول سینئر صحافی ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کے نام خط میں کہا ہے کہ وہ گھریلو خاتون ہیں اور ارشد شریف کے قتل کی کسی بھی قسم کی تحقیقات سے لاعلم ہیں۔

ممتاز صحافی و اینکر پرسن مقتول ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق سیل کو خط کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے  بیٹے کے قتل کی تحقیقات سے لاعلم ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

توشہ خانہ کی گھڑی کا معاملہ: عمران خان کا جیو ، شاہزیب اور فراڈیے کے خلاف پاکستانی اور بین الاقوامی عدالتوں میں جانے کا اعلان

سندھ نے صحافیوں اور میڈیا پریکٹیشنرز کے تحفظ کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا

انہوں نے کہا کہ وہ گھریلو خاتون ہیں، اب تک قتل کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سے متعلق انہیں کچھ علم نہیں۔ خط میں کہا گیاکہ ریاست تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ کرے اور گواہان پیش کئے جائیں۔

کینیا پولیس کی مبینہ فائرنگ سے قتل ہونے والے معروف صحافی ارشد شریف کی والدہ رفعت آرا علوی اس سے قبل چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو خط لکھ چکی ہیں جس میں وہ بیٹے کے قتل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے اعلیٰ سطح کا جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی استدعا بھی کرچکی ہیں۔

خط میں انہوں نے استدعا کی تھی کہ شہید بیٹے کے کیس کو سیاسی منافقت اور بد دیانتی سے بچایا جائے۔

ارشد شریف کی والدہ نے کہا تھا کہ وہ اپنا کیس اللہ کی عدالت میں رکھ کر انصاف کی طلبگار ہیں، توقع ہے ان کا خط شہید بیٹے کے خط کی طرح سردخانے کی نذر نہیں ہوگا، شہدا کے اہل خانہ اور صحافی برادری کا غم و غصہ انصاف کی فراہمی سے ہی کم ہوگا۔

انہوں نے خط میں تحریر کیا تھا کہ ارشد شریف کی بیوہ اور یتیم بچوں کو انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔

متعلقہ تحاریر