صدر یا وزیراعظم کی آرمی چیف کی تعیناتی پر پارٹی چیئرمین سے مشاورت قانونی ہے؟

جیونیوزکے پروگرام کیپیٹل ٹالک کے اینکر اور سینئر صحافی حامد میر نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین پاکستان کے تحت صدر یا وزیراعظم نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق اپنی پارٹی چیئرمین سے مشاورت کرسکتے ہیں؟۔ صدراسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہا کہ صدر سمری کو نظر ثانی کیلئے وزیراعظم کو واپس بھیج سکتے ہیں جبکہ نون لیگی رہنما نے کہا کہ  صدر سمری پردستخظ کرنے میں تاخیر تو کرسکتے ہیں مگر مسترد نہیں کرسکتے ہیں

سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ کیا آئین پاکستان کے مطابق صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق مشورہ کرنا چاہیے ؟۔

جیونیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹالک کے اینکر اور سینئر صحافی نے سوال اٹھایا کہ کہ کیا آئین پاکستان کے مطابق صدرمملکت کو عمران خان سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق  مشورہ کرنا چاہیے؟۔

یہ بھی پڑھیے

وفاقی کابینہ نے لیفٹیننٹ جنرل حافظ عاصم منیر سید کو آرمی چیف تعینات کرنے کی منظوری دے دی

حامد میر نے اپنے پروگرام میں عمران خان کی تقریر کا ایک کلپ چلایا جس میں  وہ نوازشریف اور آصف زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں یہ چور میرٹ پر آرمی چیف تعینات نہیں کریں گے ۔

سینئر صحافی نے پروگرام میں سوال رکھا کہ کیا  کہ صدرعارف علوی  اپنی پارٹی  چیئرمین عمران خان سے مشاورت کرسکتے ہیں۔ کیا شہبازشریف آرمی چیف کی تعیناتی پر نوازشریف سے مشاورت کرسکتے ہیں؟۔

حامد میر کے سوال پر نون لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر خرم دستگیرنے کہا کہ وزیراعظم کے جانب سے سمری بھجوانے کے بعد صدر مملکت اس پر تاخیر تو کرسکتے ہیں مگر مسترد نہیں کرسکتے ہیں۔

صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن شعیب شاہین نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے بھیجی گئی سمری صدر مملکت 15 روز تک اپنے پاس رکھ  کر نظرثانی کیلئے دوبارہ وزیراعظم کو بھیج سکتے ہیں۔

شعیب شاہین نے کہا کہ صدرکی جانب سے نظرثانی کیلئے بھجوائی گئی سمری  اگلے7 روز تک وزیر اعظم دوبارہ بھیجے گے جس کے 14 روز کے اندر صدر کو اس پر دستخظ کرنے پڑے گے ۔

یہ بھی پڑھیے

آرمی چیف کے الوداعی خطاب پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کی کڑی تنقید

صدراسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے بتایا کہ اگر صدر مملکت 14 روز میں بھی دستخظ نہیں کرتے تو وہ سمری خود بخود  نافذ عمل ہوجاتی ہے ۔

جیونیوزکے پروگرام کیپیٹل ٹالک میں رکھے جانے والے سوال پر پروگرام میں شریک مہمانوں نے اپنی سیاسی و قانونی رائے کا اظہار کیا تو وہی سوشل میڈیا صارفین نے بھی اپنے رائے کا اظہار کیا ۔

آرمی چیف سے متعلق سوال پرایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ اگر وزیراعظم شہازشریف پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف زرداری سے مشورہ کرسکتے  ہیں تو عمران خان بھی صدر سے مشورہ کرسکتا ہے۔

ایک تحریک انصاف کے حامی ٹوئٹر ہینڈل سے کہا گیا کہ  کیا کبھی یہ سوال کیا ہے کیا آئین کے مطابق وزیراعظم کو ایک سزایافتہ اور مفرور شخص سے مشورہ کرنا چاہیے ؟۔

متعلقہ تحاریر