وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ: رانا ثناء اور سبطین خان آمنے سامنے
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ جاری اجلاس کے دوران گورنر نئے اجلاس کو طلب نہیں کرسکتے جبکہ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے سے متعلق موقف غلط ہے، یہ ان کی بات آئین کے خلاف ہے، گورنر اسمبلی کا اجلاس بلا سکتا ہے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا ہے کہ گورنر بلیغ الرحمان نے جاری اجلاس کے دوران اجلاس طلب کرنے کی سمری بھیجی ہے جسے غیرقانونی سمجھتا ہوں ، اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران گورنر اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہہ سکتے، جبکہ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اگر کل چار بجے اجلاس نا ہوا اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اعتماد کا ووٹ نا لیا تو گورنر پنجاب وزیراعلیٰ ہاؤس سیل کر دیں گے۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے اعتماد کا جو ووٹ مانگا ہے اسے غیر قانونی سمجھتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیے
ق لیگ سے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل، عمران خان کا موقف کی تبدیلی سے انکار
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہم نے ختم نہیں کیا تھا بلکہ ملتوی کیا، پنجاب اسمبلی کے جاری اجلاس میں گورنر پنجاب اعتماد کا ووٹ لینے کا نہیں کہہ سکتے۔ ہوسکتا ہے آج کا اجلاس ہم ملتوی کر دیں۔ گورنر نے پہلے بھی اجلاس ایوان اقبال میں بلایا تھا۔ اگر شوق ہے تو گورنر پنجاب اب بھی اجلاس بلا لیں وزیراعلیٰ وہاں نہیں جائیں گے۔
صحافی نے سوال کیا کہ آپ صورتحال سے گھبرائے ہوئے ہیں۔؟ اسپیکر سردار سبطین خان نے جواب دیا کہ کیا میری شکل دیکھ کر لگتا ہے ہم گھبرائے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے گورنر ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے سے متعلق موقف غلط ہے، یہ ان کی بات آئین کے خلاف ہے، گورنر اسمبلی کا اجلاس بلا سکتا ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اگر کل چار بجے اجلاس نا ہوا اور وزیراعلیٰ پنجاب نے اعتماد کا ووٹ نا لیا تو گورنر پنجاب وزیراعلیٰ ہاؤس کو سیل کر دیں گے، اجلاس نا بھی ہو تو بھی وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہیٰ دہائی دے رہیں کہ نناوے فیصد لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں نہ ٹوٹیں ، پرویز الہی خود کہتے ہیں اسمبلیاں توڑنے کے حق میں نہیں ہوں۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ایک پاگل آدمی اور احمق انسان تحریک انصاف اور پنجاب کو حادثے سے دوچار کر رہا ہے، اس پاگل انسان کا ادراک کیا جانا چاہیے ، قوم اور اداروں میں اتفاق ہے اس پاگل آدمی کو روکا جائے ، پرویز الہیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے، اگر پرویز الہیٰ کہتے ہیں کہ اسمبلیاں نہیں ٹوٹنی چاہئیں تو پھر کیوں اسمبلیاں توڑ رہے ہیں ، تمام اتحادی جماعتیں مکمل رابطے میں ہیں ، اگر پرویز الہیٰ کل اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو پھر گورنر نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا اعلان کر سکتے ہیں۔









