آئی ایم ایف نے اگلی قسط کے لیے سابقہ شرائط کو پورا کرنے کا مطالبہ کردیا

آئی ایم ایف کا کہنا ہے پاکستان پہلے 7ویں اور 8 ویں جائزے کی شرائط کو مکمل کرے ، جس کے بعد 9ویں جائزہ کے لیے قرض جاری کیا جائے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 9واں جائزہ مکمل کرنے کے لیے پاکستان کے لیے اپنی شرائط میں نرمی کرنے سے انکار کردیا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے پاکستان پہلے 7ویں اور 8 ویں جائزے کی شرائط کو مکمل کرے۔

تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 7 بلین ڈالر کے قرضہ پروگرام کا نواں جائزہ مکمل کرنے کے لیے پاکستان کے لیے مقرر کردہ شرائط میں نرمی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شرائط مکمل کرنے پر پاکستان کو تقریباً 1 بلین ڈالر جاری کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ترسیلات زر میں سال بہ سال 19 فیصد کمی واقع ہوئی، رپورٹ

پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے یواے ای اور سعودیہ کا بیل آؤٹ پیکیج

واضح رہے کہ اس ماہ کے شروع میں ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جنیوا کانفرنس کے موقع پر آئی ایم ایف کے حکام سے ملاقات کی تھی ، جہاں انہوں نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے تناظر میں قرض کی شرائط پر نظرثانی کرنے کو کہا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف مشن کے مذاکرات سے قبل طے کردہ شرائط کو پورا کرے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ اہداف کے حصول کے لیے شرائط کو پورا کرنا ضروری ہوگا ، اور اگر شرائط پوری نہیں کی جاتیں تو آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنا ناممکن ہو گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شرائط میں نرمی کے لیے آئی ایم ایف سے درخواستیں کی جا رہی ہیں۔

آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس لگائے۔ تاہم حکومت مہنگائی کے مارے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریزاں ہے۔

آئی ایم ایف نے گزشتہ اگست میں ساتویں اور آٹھویں جائزوں کو ایک ساتھ منظور کیا تھا اور پاکستان کو 1.1 بلین ڈالر سے زیادہ کا قرضہ جاری کیا تھا۔

متعلقہ تحاریر